پولیس کے مطابق دھماکا چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر ہوا، دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس کی گونج سے قریبی عمارتوں کے شیشے اور کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔
پولیس حکام کا بتانا ہے کہ دھماکے سے ٹرین کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ چار افراد زخمی بھی ہوئے، دھماکے کے نتیجے میں 10 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو کوئٹہ اسٹیشن پر ہی روک لیا گیا ہے۔
دھماکے کے بعد سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور ڈاکٹرز اور طبی عملے کو طلب کر لیا گیا ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق ریلوے ٹریک پر دھماکے کے 20 سے زائد زخمیوں کو سول سنڈیمن اسپتال منتقل کیاگیا۔
وزیر داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا امور بابریوسفزئی کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے، عوام سے اپیل ہے کہ دھماکےکی جگہ کے قریب جمع نہ ہوں، دھماکے کی جگہ کو آمدورفت کےلئے بند کردیاگیا ہے اور ریسکیو کا کام جاری ہے۔


