فی الحال کسی ایرانی وفد کے پاکستان جانے یا پاکستانی وفد کے تہران آنے کا کوئی پروگرام نہیں،بقائی

Date:

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران مذاکرات کے حوالے سے اپنا مخصوص انداز رکھتا ہے اور امریکی حکام کے ہر بیان یا دھمکی کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اس سے کہیں زیادہ اہم امور ہیں، اگر ہم مخالف فریق کی ٹویٹس، تصاویر اور بیانات کا جواب دینے میں لگ جائیں تو اپنے اصل اور اہم کام انجام نہیں دے سکیں گے۔ ہماری توجہ قومی مفادات کے تحفظ کیلئے بہترین حکمتِ عملی تیار کرنے پر مرکوز ہے۔

پیر کے روز اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس کے آغاز میں بقائی نے خرمشہر کی آزادی کی یادگار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن ایرانی عوام کی مزاحمت، استقامت اور بیرونی جارحیت کے خلاف ناقابلِ شکست فتح کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے جنہوں نے وطن کے دفاع کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

انہوں نے لبنان میں عیدِ مزاحمت و آزادی کے موقع پر بھی لبنانی عوام کو مبارکباد دی اور کہا کہ جنوبی لبنان کی آزادی انسانی وقار اور مزاحمت کی ایک تاریخی مثال ہے۔

امریکی صدر کے حالیہ بیانات اور سوشل میڈیا پر جنگی تیاریوں سے متعلق تصاویر کے سوال پر بقائی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے کسی بھی وعدے یا معاہدے کی پابندی کی کوئی ضمانت موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں فیصلہ سازی عدم استحکام کا شکار ہے اور چند گھنٹوں میں متضاد بیانات سامنے آ جاتے ہیں، جو کسی بھی سفارتی عمل کیلئے نقصان دہ ہیں۔

بقائی نے کہا کہ ایران جنگ کے میدان کی طرح سفارتکاری میں بھی مکمل ہوشیاری اور ماضی کے تجربات کو سامنے رکھ کر آگے بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ پیش رفت کئی ہفتوں سے جاری بالواسطہ مذاکرات کا نتیجہ ہے، جن میں پاکستان نے باضابطہ ثالث کا کردار ادا کیا جبکہ دیگر علاقائی ممالک نے بھی مثبت تعاون کیا۔

ایرانی ترجمان نے واضح کیا کہ فی الحال کسی ایرانی وفد کے پاکستان جانے یا پاکستانی وفد کے تہران آنے کا کوئی پروگرام نہیں، تاہم ضرورت پڑنے پر مستقبل میں ایسے دورے ہو سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز سے متعلق یورپی بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے بقائی نے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی غیر قانونی اور یکطرفہ اقدام کا مناسب جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر یورپی یونین واقعی بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور پر یقین رکھتی تو اسے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تھی کیونکہ خطے میں موجودہ کشیدگی کی بنیاد  اسرائیلی  اور امریکی جارحیت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی اور محفوظ بحری آمدورفت کیلئے ایران اور عُمان مشترکہ طور پر ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد نظام تیار کر رہے ہیں تاکہ عالمی تجارت اور بین الاقوامی جہاز رانی محفوظ رہ سکے۔

بقائی کے مطابق ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس عائد نہیں کرے گا، البتہ محفوظ نیوی گیشن، ماحولیاتی تحفظ اور بحری خدمات کیلئے بعض انتظامی اخراجات ناگزیر ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ ایران خطے کے تمام ہمسایہ ممالک، خصوصاً ترکی اور عُمان کی ان کوششوں کو سراہتا ہے جو کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن کے قیام کیلئے کی جا رہی ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related

پرنس رحیم الحسینی آغا خان، گلگت بلتستان اور چترال کا تین روزہ دورہ مکمل کر کےگلگت سےروانہ

گلگت: اسماعیلی کمیونٹی کے روحانی پیشوا پرنس رحیم الحسینی...

ایران،امریکاممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعدخام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ

ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں...

امریکا،ایران مجوزہ معاہدے کے اہم نکات کیا ہیں؟بڑی خبر

امریکی خبر ایجنسی ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی...