مشرقِ وسطیٰ میں اثر و رسوخ ختم،اب خطے میں امریکا کیلئے کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں، مجتبیٰ خامنہ ای

Date:

ایران کے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور اب امریکا کیلئے خطے میں کوئی محفوظ فوجی پناہ گاہ باقی نہیں رہے گی۔

انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ “وقت کا پہیہ اب پیچھے نہیں گھومے گا” اور خطے کے عوام اب امریکی فوجی اڈوں کے محافظ بننے کیلئے تیار نہیں۔

عیدالاضحیٰ اور حج کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ امریکا روز بروز اپنی سابقہ حیثیت، طاقت اور سیاسی اثر کھو رہا ہے، جبکہ خطے کی اقوام بیدار ہو چکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی مزاحمتی پالیسی، قومی خودمختاری اور خطے سے غیر ملکی فوجی موجودگی کے خاتمے کے مؤقف پر ثابت قدم ہے۔

مجتبیٰ علی خامنہ ای نے کہا کہ آبنائے ہرمز بدستور ایران کے کنٹرول میں ہے اور دشمن ممالک کے تیل و گیس بردار جہازوں کو کسی صورت آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ امریکا نے ماضی میں طاقت کے ذریعے آبنائے ہرمز کھلوانے کی کوشش کی، تاہم ناکامی کے بعد اسے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔

ایرانی سپریم لیڈر نے اسرائیل اور امریکا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی ریاست اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے جبکہ امریکا بھی خطے میں سیاسی اور عسکری شکست سے دوچار ہے۔

انہوں نے دنیا بھر میں امریکا مردہ باد اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے بلند کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمت ہی خطے کے مستقبل کا راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کسی بھی ممکنہ امریکی۔ایرانی معاہدے سے خوفزدہ ہے کیونکہ تل ابیب ایران کے ساتھ کسی مفاہمت کے بجائے ایرانی نظام کے خاتمے کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگی حکمت عملی، مذاکرات اور جنگ بندی کے طریقہ کار پر اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں۔

اپنے خطاب میں مجتبیٰ علی خامنہ ای نے تیسری مسلط کردہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایرانی مسلح افواج اور محاذِ مزاحمت نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنے جدید میزائلوں اور ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے دشمن کو “سخت اور فیصلہ کن جواب” دیا۔یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان سمیت کئی علاقائی ممالک کی ثالثی میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کو مستحکم بنانے اور ممکنہ سیاسی معاہدے کیلئے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

دوسری جانب سپاہ پاسداران انقلاب  نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فضائی دفاعی نظام نے امریکی ایم کیو-9 ڈرون مار گرایا، جبکہ ایف-35 جنگی طیارے اور آر کیو-4 جاسوس ڈرون کو ایرانی حدود سے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔

سپاہ پاسداران نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے جنگ بندی کی کسی بھی شکل میں خلاف ورزی کی تو ایران بھرپور جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے جنوبی ایران میں میزائل تنصیبات اور مبینہ بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم تہران نے ان حملوں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر بھی تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے کی صورتحال پر دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related