ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے اور جنگ بندی میں پیش رفت کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں سمیت پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی مثبت رجحان سامنے آیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت ایک فیصد سے زائد کم ہوگئی، جس کے بعد برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 92 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 87 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کررہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی رابطوں اور جنگ بندی میں توسیع کی خبروں کے بعد سرمایہ کاروں میں خدشات کم ہوئے ہیں، جس کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں دباؤ میں کمی آئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید کم ہوتی ہے تو تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات بھی کم ہوسکتے ہیں، جس سے قیمتوں میں مزید استحکام آنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب ایشیائی مالیاتی منڈیوں میں بھی کاروبار کا مثبت رجحان دیکھا گیا۔ جاپان کے نکئی انڈیکس میں 2.67 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں بھی ایک فیصد بہتری دیکھی گئی۔ سرمایہ کاروں نے مشرق وسطیٰ میں ممکنہ استحکام کو عالمی معیشت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی کاروباری ہفتے کے پہلے سیشن کے دوران زبردست تیزی دیکھنے میں آئی۔ 100 انڈیکس میں 1400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں بہتری محسوس کی گئی۔
معاشی ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر کشیدگی میں کمی اور خام تیل کی قیمتوں میں نرمی پاکستان جیسے درآمدی ممالک کے لیے مثبت خبر ہے، کیونکہ اس سے درآمدی بل اور مہنگائی کے دباؤ میں کمی آسکتی ہے۔


