1۔ امریکی ذرائع نے بین الاقوامی میڈیا کو بتایا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی اور سیز فائر میں مزید 60 دن کی توسیع کے لیے مفاہمتی یادداشت کے مسودے پر باضابطہ اتفاق ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اب دونوں فریق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حتمی منظوری اور توثیق کے منتظر ہیں تاکہ اس پر عمل درآمد شروع کیا جا سکے۔
2۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع کے معاہدے کی تیاری میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ ابھی مکمل طور پر اس کی منظوری کے لیے تیار نہیں۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ نے تصدیق کی کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
3۔ امریکی حکومت نے آبی راستے دوبارہ کھلوانے کے لیے اقتصادی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران سے وابستہ کمپنیوں اور بین الاقوامی بحری جہازوں پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے ایرانی ایئر لائنز کو فضائی اڈوں تک رسائی روکنے کی دھمکی بھی دی، جبکہ عمان پر بھی پابندیاں لگانے کا عندیہ دیا اگر اس نے آبنائے ہرمز کے انتظام میں ایران سے تعاون کیا۔
4۔ ایرانی بحریہ نے چار تجارتی جہازوں پر انتباہی فائرنگ کی، جنہوں نے پیشگی اجازت اور رابطے کے بغیر آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کی۔
ایرانی فوج کے مطابق سمندر کی جانب سے سنی جانے والی دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں انہی انتباہی کارروائیوں کا حصہ تھیں، جو سکیورٹی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو روکنے کے لیے کی گئیں۔
5۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے ساحلی شہر بوشہر کی فضاؤں میں دشمن کے طیاروں اور مشکوک اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے باعث علاقے میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔
اسی دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ تہران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں، اور مشرق وسطیٰ میں بدامنی کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا۔
6۔ بحری ڈیٹا کمپنی “لوئیڈز لسٹ انٹیلیجنس” نے انکشاف کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازرانی اور تجارتی نقل و حرکت اب بھی انتہائی محدود اور سخت پابندیوں کے تحت ہے۔
تاہم نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق ایران سے غیر متعلق جہازوں اور آئل ٹینکرز کی آمدورفت میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
7۔ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں مشرق وسطیٰ کی تازہ سیاسی و سکیورٹی صورتحال اور جاری سفارتی ثالثی کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکراتی عمل کی حمایت پر زور دیا۔
8۔ لبنان کے محاذ پر اسرائیلی فوج نے بیروت کے نواحی علاقے الشویفات میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر “درست فضائی حملہ” کرنے کا دعویٰ کیا۔ جنگ بندی کے اعلان کے بعد دارالحکومت کے قریب یہ اپنی نوعیت کا دوسرا حملہ تھا۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق اس حملے میں ایک خاتون اور دو بچوں سمیت متعدد شہری جاں بحق ہوئے۔
9۔ لبنانی حکام نے جنوبی لبنان میں تاریخی مقامات، مزارات اور یونیسکو کے تحفظ یافتہ آثار قدیمہ کے قریب اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ حکام کے مطابق یہ منظم تباہی بین الاقوامی انسانی اور ثقافتی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔


