ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنا ٹرمپ کے لیے مشکل اور چیلنجنگ ہوگا،این بی سی

Date:

این بی سی نیوز کے مطابق ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنا ٹرمپ کے لیے مشکل اور چیلنجنگ ہوگا، کیونکہ ایران کی باقی ماندہ فوجی تنصیبات یا تو زیرِ زمین چھپی ہوئی ہیں یا متحرک ہیں اور مسلسل اپنی جگہ تبدیل کر رہی ہیں۔

باخبر ذرائع نے ہمیں بتایا ہے کہ اگر ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو حملے کے لیے باقی رہ جانے والے زیادہ تر اہداف یا تو خفیہ مقامات پر موجود ہیں یا انہیں فوری طور پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔

اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ اس نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے، تاہم امریکی محکمہ دفاع نے اضافی اہداف کی ایک فہرست تیار کر رکھی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان اہداف کو تباہ کرنا انتہائی دشوار ہے۔

اس مشکل کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایران کی فوجی تنصیبات کا ایک بڑا حصہ یا تو زیرِ زمین پوشیدہ ہے یا منتشر اور متحرک نوعیت کا ہے، جیسے میزائل اور لانچرز، جنہیں تیزی سے منتقل کیا جا سکتا ہے یا جعلی ڈھانچوں کے ذریعے چھپایا جا سکتا ہے۔ یہ صورتحال جنگ کے ابتدائی مراحل کے مقابلے میں پیچیدگی میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے، کیونکہ ابتدائی حملوں کا مرکز زیادہ تر مستقل تنصیبات تھیں۔

جنگ بندی کے دوران سامنے آنے والی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے صورتحال کے مطابق اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے اسلحہ زیرِ زمین منتقل کر دیا، اپنی افواج کو منتشر کیا اور فوجی تنصیبات کے مقامات تبدیل کر دیے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related