برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ میڈیا ادارہ ایران انٹرنیشنل گزشتہ پانچ برسوں میں تقریباً 410 ملین پاؤنڈ کے مالی خسارے سے دوچار رہا ہے، جبکہ اسی عرصے میں اسے مجموعی طور پر ایک ارب ڈالر کے قریب مالی معاونت حاصل ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس مالی معاونت میں 650 ملین پاؤنڈ کے قرضوں کی معافی بھی شامل ہے، جو سعودی عرب سے منسلک ریاستی حمایت یافتہ میڈیا گروپ ایس آر ایم جی کے زیرِ انتظام ڈھانچوں کے ذریعے فراہم کی گئی۔
تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران انٹرنیشنل طویل عرصے سے یہ موقف اختیار کرتا رہا ہے کہ وہ مکمل طور پر نجی طور پر فنڈڈ ادارہ ہے اور کسی بھی حکومت یا ریاستی ادارے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
تاہم فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مالی ریکارڈز اور سرمایہ کاری کے ڈھانچے اس دعوے کے برعکس ایک پیچیدہ مالی نیٹ ورک کی نشاندہی کرتے ہیں، جس میں ریاستی سطح کی بالواسطہ معاونت کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
رپورٹ کے بعد اس معاملے نے میڈیا فنانسنگ اور آزاد صحافت سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے اس انکشاف پر فوری طور پر تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔


