روس کے زیرِ قبضہ زاپوریژیا نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ایک بڑے ڈرون حملےکی اطلاع،عالمی سطح پرتشویش کی لہر دوڑ گئی ،

Date:

روس کے زیرِ قبضہ زاپوریژیا نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ایک بڑے ڈرون حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد عالمی سطح پر جوہری تحفظ کے حوالے سے شدید تشویش پیدا ہوگئی ہے۔

روس کی سرکاری جوہری توانائی کمپنی روساٹم کے مطابق 30 مئی 2026 کو ایک یوکرینی کامی کازی ڈرون نے پاور یونٹ نمبر 6 کے ٹربائن ہال کو نشانہ بنایا۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے سے ٹربائن ہال کی دیوار میں بڑا شگاف پڑا، تاہم ری ایکٹر یا دیگر اہم جوہری آلات کو نقصان نہیں پہنچا۔

روس کے مطابق یہ حملہ جان بوجھ کر کیا گیا اور یہ پہلی بار ہے کہ پلانٹ کے اہم انفراسٹرکچر کے اتنے قریب براہِ راست ڈرون حملہ رپورٹ ہوا ہے۔

یوکرین کا مؤقف

یوکرینی فوج نے روسی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے پلانٹ پر کوئی حملہ نہیں کیا۔ کیف کا کہنا ہے کہ یوکرینی افواج بین الاقوامی انسانی قوانین کی پابند ہیں اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے نتائج سے بخوبی آگاہ ہیں۔ یوکرین نے روسی الزامات کو "پروپیگنڈا” قرار دیا ہے۔

آئی اے ای اے کا ردِعمل

عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رفائل گروسی نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جوہری تنصیبات پر حملے آگ سے کھیلنے کے مترادف ہیں۔

آئی اے ی اے نے تصدیق کی ہے کہ اسے پلانٹ انتظامیہ کی جانب سے ڈرون حملے کی اطلاع دی گئی ہے اور اس کے ماہرین نے متاثرہ عمارت کا معائنہ کرنے کی درخواست کی ہے۔

کیا تابکاری کا خطرہ ہے؟

اب تک سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ری ایکٹرز کو براہِ راست نقصان نہیں پہنچا۔تابکاری کے اخراج کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔پلانٹ کے بنیادی حفاظتی نظام بھی فعال ہیں۔
تاہم آئی اے ای اے نے خبردار کیا ہے کہ جنگی سرگرمیوں کے دوران کسی بھی غلطی یا بڑے حملے سے سنگین جوہری حادثہ جنم لے سکتا ہے۔
پس منظر

زاپوریژیا نیوکلیئر پاور پلانٹ یورپ کا سب سے بڑا جوہری پاور پلانٹ ہے۔ روس نے مارچ 2022 میں اس پر قبضہ کر لیا تھا اور تب سے یہ جنگی محاذ کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے عالمی تشویش کا مرکز بنا ہوا ہے۔ آئی اے ای اے متعدد بار خبردار کر چکی ہے کہ پلانٹ کے اطراف فوجی کارروائیاں ایک ممکنہ جوہری بحران کو جنم دے سکتی ہیں۔

موجودہ صورتحال

فی الحال کسی جوہری اخراج یا ری ایکٹر کو نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، لیکن روس اور یوکرین ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں جبکہ آئی اے ای اے صورتِ حال کی نگرانی کر رہی ہے۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں ایسے حملے شدت اختیار کرتے ہیں تو پورے یورپ کے لیے جوہری سلامتی کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related

پہلا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 201 رنز کا ہدف

راولپنڈی میں کھیلے جارہے میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا...

دریائے لیطانی تک اسرائیلی پیش قدمی، لیکن کیا جنگی اہداف تاحال حاصل ہو سکےہیں؟

لبنان میں جاری جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے...

بلوچستان کی ترقی کا اہم سنگِ میل، نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پہلی پرواز لینڈ کر گئی

گوادر کے نیو انٹرنیشنل  ائیر پورٹ پر ساؤتھ ائیر...