بین الاقوامی سیکیورٹی فورم شنگری لا ڈائیلاگ کے دوران نیٹو ملٹری کمیٹی کے چیئرمین ایڈمرل جوسیپے کاوو ڈریگون نے کہا ہے کہ نیٹو اس وقت آبنائے ہرمز کے معاملے میں براہ راست کردار ادا نہیں کر رہا، تاہم اس کے بعض رکن ممالک پہلے ہی عملی اقدامات کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "نیٹو اس وقت براہ راست کردار ادا نہیں کر رہا، لیکن انفرادی رکن ممالک پہلے ہی سرگرم ہیں اور وہ اپنی افواج کو خطے کے قریب منتقل کر رہے ہیں۔”
ایڈمرل کے مطابق اگر ضرورت پیش آئی تو یہ ممالک بحری جہاز رانی کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششوں میں بھی حصہ لے سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی ترسیل کا ایک انتہائی حساس راستہ ہے، اور اس علاقے میں کسی بھی فوجی نقل و حرکت سے عالمی منڈیوں اور تیل کی سپلائی پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔


