پاکستان کا آئندہ مالی سال 2026–27 کا بجٹ آئندہ ہفتے پیش کیے جانے کا امکان ہے، جس سے قبل ملک میں مہنگائی کے ممکنہ نئے دباؤ اور ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے تشویش میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
معاشی ماہرین اور حکومتی ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی معاونت سے جاری اصلاحاتی پروگرام کے تحت نئے بجٹ میں متعدد شعبوں میں ٹیکسوں اور درآمدی ڈیوٹیز میں نمایاں تبدیلیوں کی تجویز زیر غور ہے۔ ان اصلاحات کا مقصد جہاں محصولات کے نظام کو بہتر بنانا ہے، وہیں مقامی صنعتوں کی مسابقت بڑھانا بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
مہنگائی اور عالمی عوامل کا دباؤ
حالیہ عالمی اور علاقائی کشیدگی، خصوصاً امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث تیل اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، جس نے پاکستان میں مہنگائی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ بجٹ میں نئے ٹیکس یا شرحوں میں اضافہ کیا گیا تو عام صارفین پر مہنگائی کا اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
ٹیرف پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کا امکان
ذرائع کے مطابق حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے بعد ایک نئی نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت بڑے پیمانے پر درآمدی ڈیوٹیز میں کمی پر غور کر رہی ہے۔ مجوزہ اصلاحات کے تحت:
اضافی کسٹمز ڈیوٹی میں کمی 3,149 ٹیرف لائنز تک ممکن ہے
ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی 1,900 سے زائد ٹیرف لائنز کو متاثر کر سکتی ہے
متعدد اشیاء پر درآمدی ٹیکس میں نرمی کا امکان
کن شعبوں کو ریلیف مل سکتا ہے؟
مجوزہ اصلاحات کے مطابق:
درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹیز میں کمی
برآمدی صنعتوں کے خام مال پر ٹیکس میں نرمی
زرعی مشینری اور آلات پر درآمدی ڈیوٹی میں کمی
ٹیلی کام سیکٹر میں 5G آلات پر ٹیکس ریلیف
صنعتی پیداوار کے لیے خام مال سستا ہونے کا امکان
ڈیوٹی سلیب میں بڑی کٹوتیاں زیر غور
ذرائع کے مطابق حکومت مختلف ٹیرف سلیبز میں بھی کمی پر غور کر رہی ہے:
15 فیصد سلیب میں 518 ٹیرف لائنز پر 2 فیصد اضافی کسٹمز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز
20 فیصد سلیب میں 2,166 لائنز پر ڈیوٹی 4 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کرنے کی تجویز
468 زیادہ ڈیوٹی والی لائنز میں شرح 6 فیصد سے 4 فیصد کرنے پر غور

معاشی ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق اگر یہ اصلاحات منظور ہو جاتی ہیں تو درآمدی اشیاء کی لاگت میں نمایاں کمی ممکن ہے، جس سے صنعتی شعبے کو سہارا مل سکتا ہے۔ تاہم دوسری جانب حکومت کو ریونیو خسارے اور مہنگائی کے ممکنہ اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات آئی ایم ایف شرائط کی تکمیل اور معیشت کی طویل مدتی بہتری کے لیے ضروری ہیں، جبکہ اس کا حتمی فیصلہ بجٹ پیشی کے موقع پر کیا جائے گا۔


