بیروت پر حملہ ہوا تو،شمالی اسرائیل کے شہریوں کو بھی خطرات کا سامنا ہوگا، علاقے سے نکل جائیں ، ایران کی وارننگ

Date:

ایرانی مسلح افواج کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر نے اسرائیل کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بیروت اور ضاحیہ پر حملوں کی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنایا گیا تو شمالی اسرائیل اور فوجی بستیوں کے رہائشیوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو خطے میں کشیدگی کو مزید ہوا دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور وہ پہلے ہی بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ سمیت لبنانی دارالحکومت پر حملوں کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔

ایرانی فوجی حکام کے مطابق اسرائیلی قیادت کی جانب سے ان علاقوں کے شہریوں کو انخلا کی ہدایات بھی جاری کی جا چکی ہیں، جو ممکنہ فوجی کارروائیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔

خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر نے اپنے بیان میں خبردار کیا کہ اگر لبنان کے دارالحکومت بیروت یا ضاحیہ کو نشانہ بنایا گیا تو مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے شمالی حصوں اور فوجی کالونیوں میں رہنے والے افراد بھی خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں۔ بیان میں ان علاقوں کے رہائشیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچنے کے لیے پیشگی طور پر علاقہ خالی کر دیں۔

ایرانی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تمام تر نتائج کی ذمہ داری اسرائیلی حکومت پر عائد ہوگی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ لبنان کے خلاف کسی بھی نئی فوجی کارروائی سے نہ صرف علاقائی صورتحال مزید خراب ہوگی بلکہ اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے، جبکہ عالمی برادری خطے میں ممکنہ بڑے تصادم کے خدشات کے پیش نظر صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related