ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز نے آج بدھ کی علی الصبح جاری کیے گئے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے گزشتہ رات دیر گئے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچا۔
بیان میں کہا گیا کہ "یہ حملہ براہِ راست جارحیت اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی تھا۔” مزید کہا گیا کہ ایران نے اس کے جواب میں "امریکی۔صہیونی دشمن” سے منسلک "پانایا” نامی ایک بحری جہاز کو پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا۔

بیان کے مطابق بعد ازاں امریکا نے ایک اور حملہ کرتے ہوئے جزیرہ قشم کے جنوبی علاقے میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک مواصلاتی ٹاور کو فضائی گولہ بارود سے نشانہ بنایا، جس کے باعث ایران کو مزید جوابی کارروائی کرنا پڑی۔
پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس کی ایرو اسپیس فورس نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ایسے اہداف کو نشانہ بنایا جن میں خطے کے ایک ملک میں موجود امریکی فضائی اڈہ، امریکی ہیلی کاپٹرز اور امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کا ہیڈکوارٹر شامل تھے۔
بیان میں زور دے کر کہا گیا کہ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا تھا کہ اس کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب مختلف اور پہلے سے زیادہ سخت انداز میں دیا جائے گا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق حالیہ کارروائیاں اسی انتباہ کا عملی مظہر اور امریکا کے لیے ایک واضح پیغامِ ہیں۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کے امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کی امریکی فوج کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ خطے کی اہم آبی گزرگاہوں کے امن کو خطرے میں ڈالنے والے کسی بھی اقدام کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے


