دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ 15 جون 2026 تک ملک بھر میں 32 ہزار 92 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے جبکہ دہشت گردی کے 2 ہزار 170 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے 64 فیصد خیبرپختونخوا اور 34 فیصد بلوچستان میں پیش آئے۔ ذرائع کے مطابق 1 ہزار 861 دہشت گرد مارے گئے جبکہ 640 سکیورٹی اہلکار اور شہری شہید ہوئے۔
کشمیر کے حوالے سے سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ پاکستان کا تنازع دہشت گردی اور مخالف عناصر سے ہے، عوام سے نہیں۔ ذرائع نے مقبوضہ کشمیر میں سیاسی و شہری آزادیوں پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ بھارت فوجی طاقت کے باوجود کشمیری عوام کے جذبات تبدیل نہیں کرسکا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ذرائع نے الزام عائد کیا کہ بعض گروہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور انہیں آئینی و قانونی طریقے سے نمٹا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ریاست ہمیشہ مسائل کے حل کے لیے پہلے مذاکرات اور سیاسی عمل کو ترجیح دیتی ہے۔
سندھ طاس معاہدے سے متعلق سکیورٹی ذرائع نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اس معاہدے پر یکطرفہ فیصلہ نہیں کرسکتا اور پاکستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب سکیورٹی ذرائع نے 9 مئی کے واقعات کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے کسی بھی ملاقات کی خبروں کی تردید کی۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ قانون سے فرار اختیار کرنے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی جاری رہے گی۔


