سندھ میں گیس کے نئے ذخائر سے پیداوار شروع، قومی گیس نیٹ ورک میں مزید اضافہ

Date:

سندھ کے مختلف علاقوں میں دریافت ہونے والے نئے گیس کنوؤں سے پیداوار شروع ہوگئی ہے، جس کے بعد قومی گیس نظام میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ ڈھرکی اور خیرپور میں نئے دریافت شدہ کنوؤں سے حاصل ہونے والی گیس سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کے نیٹ ورکس میں شامل کر دی گئی ہے۔

توانائی کمپنی ماڑی انرجیز کے مطابق ضلع گھوٹکی کے علاقے ڈھرکی میں واقع شمس ون کنویں سے حاصل ہونے والی گیس کی پیداوار شروع کردی گئی ہے۔ اس کنویں سے روزانہ تقریباً 3 کروڑ مکعب فٹ گیس سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کے نظام میں شامل کی جا رہی ہے۔

ماڑی ڈویلپمنٹ اینڈ پروڈکشن لیز ڈھرکی اس منصوبے کی آپریٹر اور 100 فیصد حصص کی مالک ہے۔ کمپنی کے مطابق اس دریافت سے ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی اور مقامی گیس کی فراہمی میں اضافہ ہوگا۔

دوسری جانب آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے سندھ کے ضلع خیرپور میں واقع سہتو ون کنویں سے بھی گیس کی پیداوار شروع کردی ہے۔

او جی ڈی سی ایل کے ترجمان کے مطابق سہتو ون کنویں سے روزانہ 60 لاکھ مکعب فٹ گیس سوئی سدرن گیس کمپنی کے نیٹ ورک میں شامل کی جا رہی ہے۔

گیس کی ترسیل کے لیے تقریباً 5 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھا کر کنویں کو سنجھورو پراسیسنگ پلانٹ سے منسلک کیا گیا، جہاں گیس کی پراسیسنگ کے بعد اسے سوئی سدرن کے نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔

ترجمان او جی ڈی سی ایل نے بتایا کہ مستقبل میں اس کنویں سے گیس کی پیداوار میں بتدریج اضافے کی توقع ہے۔

توانائی ماہرین کے مطابق مقامی گیس کی نئی دریافتیں پاکستان کے لیے اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ ملک کو بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات پوری کرنے اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے نئے ذخائر کی اشد ضرورت ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related