اسلام آباد: قومی اسمبلی نے مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ اور فنانس بل کی منظوری دے دی۔ بجٹ کی منظوری اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں دی گئی، جس کے بعد اسپیکر نے ایوان کا اجلاس کل صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا۔
منظور شدہ فنانس بل 2026-27 کے مطابق یکم جولائی سے درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹی کی نئی شرحیں نافذ ہوں گی۔ دو ہزار سے تین ہزار سی سی تک کی درآمدی گاڑیوں پر 86 فیصد جبکہ 3001 سی سی یا اس سے زائد انجن صلاحیت رکھنے والی درآمدی گاڑیوں پر 92 فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔
فنانس بل میں بعض فلاحی اور سماجی اداروں کے لیے ٹیکس میں رعایتوں اور استثنیٰ کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ بل کے مطابق پاکستان نیوی بینیولنٹ ایسوسی ایشن اور سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (SIUT) کو یکم جولائی سے ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
اسی طرح صوبائی ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹیٹیوشنز، اورنگی ٹاؤن ویلفیئر ادارے اور میک اے وش فاؤنڈیشن کے لیے بھی ٹیکس رعایت برقرار رکھنے کی منظوری دی گئی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ بجٹ میں معاشی استحکام، محصولات میں اضافے، فلاحی شعبوں کی معاونت اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل کی فراہمی کو ترجیح دی گئی ہے، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے بعض مالیاتی اقدامات پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔
قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد بجٹ اور فنانس بل آئندہ مالی سال کے آغاز پر یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہو جائیں گے۔


