چیف سیکرٹری آزاد جموں و کشمیر خوشحال خان نے کہا ہے کہ ریاست میں امن و امان کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی صورت قانون کی بالادستی پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
مظفرآباد میں انسپکٹر جنرل پولیس لیاقت علی ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں کے باعث ریاست کے امن و استحکام کو نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے آزاد کشمیر کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے 20 سے 25 ارب روپے فراہم کیے، جبکہ عوامی مطالبات بھی بڑی حد تک پورے کیے گئے، تاہم اس کے باوجود احتجاج کا راستہ اختیار کیا گیا۔
خوشحال خان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں آٹے اور بجلی کی قیمتوں کے معاملے پر عوامی ہمدردی حاصل کی گئی، لیکن بعد ازاں مطالبات کا دائرہ مسلسل وسیع ہوتا گیا اور مہاجرین کی 12 نشستوں کے معاملے کو بھی احتجاج کے جواز کے طور پر استعمال کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور ریاست میں قانون کی عملداری کو ہر قیمت پر یقینی بنائے گی۔
اس موقع پر آئی جی آزاد کشمیر لیاقت علی ملک نے کہا کہ بعض شرپسند عناصر ریاست کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مشتعل افراد نے ایک پولیس اہلکار کو شہید کرنے کے بعد اس کے جسدِ خاکی کی بے حرمتی بھی کی، جو انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔
آئی جی نے کہا کہ پولیس پر فائرنگ یا جان لیوا حملے کی صورت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جوابی کارروائی کا مکمل حق حاصل ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ آزاد کشمیر میں حکومت کی رٹ ہر حال میں قائم رکھی جائے گی اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
لیاقت علی ملک نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور ہمیشہ پاکستان کا حصہ رہے گا، جبکہ ریاست کے امن، استحکام اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔


