واشنگٹن: امریکی حکام نے میڈیکیئر کی تاریخ کے سب سے بڑے مبینہ مالیاتی فراڈز میں سے ایک کے مرکزی ملزم ابراہیم خلدون حلمی کو بیرونِ ملک سے گرفتار کرکے امریکہ منتقل کر دیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق حلمی پر الزام ہے کہ انہوں نے 3.7 ارب ڈالر کے ایک بڑے فراڈ اسکیم کی منصوبہ بندی اور قیادت کی، جس کے ذریعے میڈیکیئر پروگرام کو بھاری مالی نقصان پہنچایا گیا۔ وہ مئی 2025 سے مفرور تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی میامی، امریکی محکمہ انصاف (DOJ) اور ترکی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے باہمی تعاون سے حلمی کو گرفتار کیا گیا۔ بعد ازاں حراست کی بین الاقوامی منتقلی کے عمل کے تحت انہیں امریکہ واپس لایا گیا، جہاں وہ عدالتی کارروائی کا سامنا کریں گے۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے اس پیش رفت کو فراڈ کے خلاف جاری مہم کی ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس ٹاسک فورس، جس کی قیادت نائب صدر جےڈی وینس کر رہے ہیں، مالی جرائم کے خلاف کارروائیوں کو مزید تیز کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کا غلط استعمال کرنے والے افراد دنیا میں کہیں بھی چھپنے کی کوشش کریں، انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
حکام نے اس کارروائی میں امریکی سفیر ٹام براک کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی مسلسل کوششوں نے ملزم کی گرفتاری اور امریکہ منتقلی میں اہم کردار ادا کیا۔
اگر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو یہ مقدمہ امریکی تاریخ کے سب سے بڑے میڈیکیئر فراڈ کیسز میں شمار ہو سکتا ہے۔


