ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن بحیرۂ عمان سے نکل کر بحیرۂ عرب میں داخل ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 22 جون اور 5 جولائی کو لی گئی سیٹلائٹ تصاویر کے تقابلی جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی بحری بیڑے کا مرکزی طیارہ بردار جہاز، جو پہلے ایران کی بندرگاہ چابہار سے تقریباً 140 کلومیٹر کے فاصلے پر بحیرۂ عمان میں موجود تھا، اب جنوب کی جانب تقریباً 207 کلومیٹر منتقل ہو کر بحیرۂ عرب میں پہنچ چکا ہے۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اس بحری نقل و حرکت کا مشاہدہ سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے کیا گیا، تاہم اس پیش رفت کے مقاصد یا ممکنہ عسکری سرگرمیوں کے بارے میں کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
دوسری جانب امریکی حکام نے اب تک امریکی بحری بیڑے کی اس نقل و حرکت یا اس کے پس منظر سے متعلق کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے، جس کے باعث اس پیش رفت پر مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔


