نیویارک: ایران نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا کو اس کے مبینہ غیر قانونی اقدامات پر جواب دہ ٹھہرایا جائے اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے بعد اپنے بیان میں امریکا پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اپنے غیر قانونی اقدامات سے پیدا ہونے والے تمام قانونی، سیاسی اور بین الاقوامی نتائج کا مکمل ذمہ دار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ امریکا کی مبینہ جارحیت کا نوٹس لیں اور ایسے اقدامات کریں جو مستقبل میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو روکنے میں مؤثر ثابت ہوں۔
امیر سعید ایروانی نے زور دیا کہ عالمی ادارہ اس بات کو یقینی بنائے کہ امریکا اپنے بین الاقوامی وعدوں اور قانونی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کرے اور عالمی امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے باز رہے۔
ایرانی مندوب کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور ریاستوں کی خودمختاری کے اصولوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ خطے میں مزید کشیدگی کو روکا جا سکے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ حملوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں خطے کی سکیورٹی، بین الاقوامی بحری جہاز رانی اور ممکنہ سفارتی حل پر غور کیا گیا۔ ایران نے اس موقع پر ایک بار پھر عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشیدگی میں اضافے کے بجائے بین الاقوامی قانون کے مطابق ذمہ دارانہ اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔


