پاکستانی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز جاری کردہ اپنے بیان میں کہا، پاکستان اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار بحری جہازوں یا پاکستانی بحری مفادات کے خلاف کسی بھی معاندانہ اقدام کو پاکستان کی قومی سلامتی اور مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔پاکستان نے سعودی عرب کے خلاف حوثی باغیوں کی دھمکیوں کی بھی مذمت کی۔
سعودی عرب کے قریبی سکیورٹی شراکت دار پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا، پاکستان مملکت سعودی عرب کو مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں گھسیٹنے کی کوششوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے اور برادر مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔‘‘
جوہری صلاحیت کا حامل ملک پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ایک وسیع فوجی اتحاد برقرار رکھتا ہے۔اگر پاکستان اس تنازعے میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کرتا ہے تو اس سے اسلام آباد یمن کی جنگ میں براہ راست تہران کے مدمقابل آ کھڑا ہو گا۔


