ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم 6 شہری ہلاک جبکہ 180 افراد زخمی ہوگئے ہیں، جن میں سے 8 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایرانی حملوں میں جوہری مرکز دیمونا اور شہر اراد کو شدید نقصان پہنچا ہے، جہاں تباہی کی تفصیلات بتدریج سامنے آ رہی ہیں۔ حکام نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ افراد میں متعدد کی حالت نازک ہے۔
رپورٹس کے مطابق دیمونا میں ایک ایرانی میزائل براہ راست تین منزلہ عمارت سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں قریبی کئی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ اس حملے میں 51 افراد زخمی ہوئے، جبکہ اراد میں 116 افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جن میں سے 7 کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اراد پر حملے کے وقت شہریوں کو بروقت الرٹ جاری نہیں کیا جا سکا، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔
دوسری جانب لبنان کی تنظیم حزب اللہ نے بھی شمالی اسرائیل میں فوجی اہداف پر راکٹوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے، جن میں اسرائیلی فوجیوں کے اجتماع اور بیرکس کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق اراد میں 116 اور دیمونا میں 64 افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ مجموعی تعداد 180 تک پہنچ گئی ہے۔
ادھر ایران نے اپنے جوہری مرکز نطنز پر حملوں کے جواب میں دیمونا کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جہاں اسرائیل کا اہم ایٹمی ری ایکٹر واقع ہے۔
برطانوی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل کے دیمونا کے علاقے میں کیے گئے کامیاب حملوں نے دفاعی ماہرین اور سیکیورٹی حلقوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے سکائی نیوز کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے واحد جوہری پلانٹ کے قریب اس نوعیت کے حملے نہایت غیر معمولی اور تشویشناک ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی اس انتہائی حساس تنصیب کے اطراف جدید اور مضبوط دفاعی نظام نصب ہے، تاہم اس کے باوجود میزائلوں کا ہدف کے قریب تک پہنچ جانا سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے، جبکہ دیمونا، بیر السبع اور ایلات میں حملوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔


