خطے میں جاری حالات کے حوالے سے جامعہ الازہر کی جانب سے جاری بیان کے جواب میں ایران کے علمی حوزات کے سربراہ آیت اللہ علی رضا العرافی نے عربی زبان میں ایک بیان جاری کیا ہے جو جامعہ ازہر کے امام کے نام ہے
اس بیان میں انہوں نے زور دیاگیا ہے کہ موجودہ تنازع کو اس کے تاریخی اور تہذیبی پس منظر میں سمجھنا ضروری ہے، اور یہ کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس جنگ میں جارح نہیں بلکہ مسلسل حملوں کا نشانہ بننے کے بعد اپنی خودمختاری اور عوام کے وقار کے دفاع پر مجبور ہوا ہے۔
ایران کے معروف عالم دین آیت اللہ علی رضا العرافی کی جانب سے پیش کئے بیان کے اہم نکات زیل میں پیش کیے جاتے ہیں
ازہر کی جانب سے ایرانی فوجی ردعمل کو عرب و اسلامی ممالک کے خلاف بلاجواز جارحیت قرار دینے کے جواب میں ایران نے کہا کہ موجودہ حالات دراصل ایک طویل تہذیبی کشمکش کا حصہ ہیں، جس میں مغربی منصوبہ خطے کا نقشہ ازسرِ نو تشکیل دینے اور صہیونی ریاست کے تحفظ کی کوشش کر رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ مسئلہ فلسطین امتِ مسلمہ کا مرکزی مسئلہ ہے، اور اسے نظرانداز کرنا موجودہ حالات کو ادھورا سمجھنے کے مترادف ہے۔
ایران نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے کسی اسلامی ملک پر حملہ نہیں کیا بلکہ ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں سے صہیونی-امریکی جارحیت اس کی سرزمین کے خلاف کی گئی، جس کے نتیجے میں علی خامنہ ای کی شہادت واقع ہوئی، جو شیعہ مرجع اور اسلامی اتحاد کے رہنما تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایرانی ردعمل اس کی خودمختاری اور عوام کے وقار کے دفاع کے لیے ایک جائز اقدام ہے، جو اس کی سرزمین اور مفادات پر بار بار ہونے والے حملوں کے بعد کیا گیا۔
اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ایرانی شہریوں کے خلاف جرائم کو نظرانداز کرنا اور صرف دفاعی ردعمل کو تنقید کا نشانہ بنانا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔
بیان میں امتِ مسلمہ کے اتحاد کی کھلی اپیل کرتے ہوئے ازہر کے علما اور قم کے طلبہ کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے پر زور دیا گیا، تاکہ جنگوں سے بچا جا سکے اور مشترکہ حکمت عملی تشکیل دی جا سکے۔
آخر میں بیان میں کہا گیا کہ ایران کا مؤقف ایک جائز اور اخلاقی ذمہ داری پر مبنی ہے، اور اس بات پر زور دیا گیا کہ کسی بھی ردعمل کا جائزہ لینے سے پہلے مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے، تاکہ امت کو جنگوں اور تنازعات کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔


