تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاکستان ایک پڑوسی اور دوست ملک ہے اور ایران اس کے ساتھ اچھے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان سمیت پڑوسی ممالک کی نیک نیتی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے وزیر خارجہ مسلسل علاقائی ہم منصبوں سے رابطے میں ہیں اور مختلف ممالک نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی پیشکش بھی کی ہے، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کی کوششوں کے باوجود اس کا بنیادی مؤقف دفاع اور خودمختاری کا تحفظ ہے۔
ترجمان کے مطابق ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مذاکرات سے متعلق دعوے قابل اعتماد نہیں، اور حالیہ حالات میں کسی بھی امریکی سفارتکاری پر اعتماد ممکن نہیں رہا، کیونکہ ایران کے مطابق ماضی میں مذاکرات کے دوران بھی حملے کیے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 24 دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی باضابطہ رابطہ نہیں ہوا اور ایران اپنی مسلح افواج کے ساتھ ملک کی علاقائی سالمیت کے دفاع پر قائم ہے۔
اسماعیل بقائی نے آبنائے ہرمز سے متعلق مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ ایران جنگی صورتحال کے باعث اس اسٹریٹجک راستے پر کنٹرول اور حفاظتی اقدامات جاری رکھے گا، جبکہ بعض ممالک کے لیے محفوظ گزرگاہ باہمی ہم آہنگی کے تحت ممکن ہوگی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران پر کسی بھی حملے کی صورت میں سخت اور فوری جواب دیا جائے گا اور ایران اپنے دفاعی اقدامات پر مکمل طور پر قائم ہے۔


