امریکا کے صدر ٹرمپ نے ایران کو فوری مذاکرات کرنے کی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کا وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور اگر تاخیر کی گئی تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی مذاکرات کار “عجیب رویہ” اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ان کے بقول ایران پس پردہ مذاکرات کی خواہش رکھتا ہے اور “درخواستیں” کر رہا ہے، کیونکہ وہ فوجی طور پر کمزور ہو چکا ہے، تاہم عوامی سطح پر مختلف مؤقف اپنایا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے زور دیا کہ ایران کو سنجیدگی دکھانا ہوگی اور دیر ہونے سے پہلے فیصلہ کرنا ہوگا، بصورت دیگر حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
واشنگٹن میں رپبلکن پارٹی کے فنڈ ریزنگ ایونٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں قیادت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ہے اور کوئی بھی سپریم لیڈر بننے کے لیے تیار نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران خود امریکا سے بات چیت اور جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ چاہتا ہے مگر اندرونی خوف کے باعث کھل کر سامنے نہیں آ رہا۔
اپنے ایک اور بیان میں ٹرمپ نے نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے معاملے میں نیٹو ممالک نے کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو نیٹو کی ضرورت نہیں اور وہ اس صورتحال کو یاد رکھے گا۔
امریکی کابینہ ارکان سے گفتگو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو ایران پر مزید سخت حملے کیے جائیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کو معاہدہ کرنا ہوگا، ورنہ اسے مسلسل امریکی حملوں کا سامنا رہے گا۔
ان کے مطابق اگر ایران نے اپنی جوہری خواہشات ترک نہ کیں تو یہ جنگ اس کے لیے “ڈراؤنا خواب” ثابت ہو سکتی ہے۔


