مذاکرات کی خواہش یا نفسیاتی دباؤ کا حربہ، ٹرمپ آخر چاہتا کیا ہے؟؟

Date:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی کی خواہش کے دعوے نے عالمی سطح پر نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے، جہاں ایک طرف سفارتی بیانات سامنے آ رہے ہیں تو دوسری جانب زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کر رہے ہیں۔

تازہ بیانات میں صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی اور مذاکرات کی بات کی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ بیانات بظاہر سفارتی پیش رفت سے زیادہ ایک سیاسی و نفسیاتی حکمت عملی دکھائی دیتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ نے بیک وقت فوجی دباؤ بھی برقرار رکھا ہوا ہے اور مذاکرات کا عندیہ بھی دیا جا رہا ہے، جس سے پالیسی میں تضاد نمایاں ہے۔

دوسری جانب ایران نے بارہا امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس نے نہ تو جنگ بندی کی درخواست کی اور نہ ہی کسی باضابطہ مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔ ایرانی حکام نے امریکی بیانات کوبے بنیاد اور پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔

حالیہ پیش رفت میں لبنان میں عارضی جنگ بندی کا اعلان بھی سامنے آیا، جسے امریکہ اپنی سفارتی کامیابی قرار دے رہا ہے، تاہم زمینی سطح پر جھڑپیں جاری رہنے کی اطلاعات نے اس دعوے کو کمزور کر دیا ہے۔

امریکی کانگریس کے اندر بھی اس جنگ پر اختلافات شدت اختیار کر رہے ہیں، جہاں صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی کوششیں ناکام تو ہوئیں لیکن اس سے یہ ظاہر ہوا کہ خود امریکہ کے اندر بھی اس پالیسی پر مکمل اتفاق نہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی مزاحمت اور خطے میں بڑھتے دباؤ کے باعث واشنگٹن اب سفارتکاری کا تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ نہ صرف عالمی رائے عامہ کو متاثر کیا جا سکے بلکہ ممکنہ فوجی ناکامی کو بھی کمزور انداز میں پیش کیا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی جنگ بندی کی سنجیدہ کوششیں ہوتیں تو اس کے ساتھ ٹھوس اعتماد سازی کے اقدامات بھی سامنے آتے، جو فی الحال دکھائی نہیں دے رہے۔ اس صورتحال میں ٹرمپ کے بیانات کو بعض حلقے نفسیاتی جنگ  کا حصہ قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد مخالف فریق اور عالمی برادری دونوں پر اثر انداز ہونا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related

امریکی صدر ٹرمپ کا جلد ایران میں فتح حاصل کرنے کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جاری کشیدگی...