ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق تہران کا مؤقف ہے کہ اسرائیل نے لبنان پر حملے کر کے جنگ بندی کی ان بنیادی شرائط کو پامال کیا ہے
ایران کا کہنا ہے کہ لبنان جنگ بندی کے اہم نکات میں شامل تھا، تاہم اسرائیل نے نہ صرف اس معاہدے کو نظر انداز کیا بلکہ لبنان میں اپنے حملوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا۔
تہران کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی کسی ایک محاذ تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے میں اس کا اطلاق ہونا چاہیے، اور اگر کسی ایک مقام پر اس کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اسے پورے معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
ایران نے اپنے مؤقف میں واضح کیا ہے کہ وہ غزہ اور لبنان دونوں میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔
تہران کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کو مکمل طور پر لبنان سے نکلنا ہوگا اور خطے میں جاری جنگی سرگرمیوں کو بند کرنا ہوگا۔
ایرانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ جب تک ان مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور مزاحمتی محور کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے، امریکا کے ساتھ کسی قسم کی پیش رفت ممکن نہیں ہوگی۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فوج کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ پر حملے کا حکم دیا تھا۔ یہ علاقہ حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے اور ماضی میں بھی متعدد اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور آئندہ دنوں میں حملوں کی شدت میں اضافہ بھی متوقع ہے۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے بیروت پر حملے کے منصوبے سے امریکا کو پیشگی آگاہ کیا گیا تھا اور اس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان قریبی رابطہ موجود تھا۔
دوسری جانب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر بھی تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔ تسنیم کی رپورٹ کے مطابق ایران اور اس کے اتحادی گروہوں نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش اور دیگر اہم محاذوں کو فعال کرنے کے آپشنز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ان محاذوں میں باب المندب بھی شامل ہے جو بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں واقع دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات طویل عرصے تک معطل رہتے ہیں اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں جاری رہتی ہیں تو نہ صرف خطے کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت اور مشرق وسطیٰ کے مجموعی استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس صورتحال نے ایک بار پھر خطے کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں کسی بھی فریق کی جانب سے اٹھایا گیا قدم وسیع تر علاقائی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔


