ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اہم بیان میں کہا ہے کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے کے کسی بھی امکان کو قبول نہیں کرے گا۔
ترجمان کے مطابق ایران کو پہنچنے والے نقصانات اور مالی خسارے کا ازالہ مذاکرات میں ایک نہایت اہم معاملہ ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی معاہدے میں ایران کے مفادات اور نقصانات کا مکمل ازالہ شامل ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کی جاتی ہے تو اسے جنگ بندی (سیز فائر) کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، اور ایسی صورت میں ایران یقینی طور پر مناسب اقدامات کرے گا۔
ایرانی ترجمان نے واضح کیا کہ ملک پر عائد پابندیوں کا خاتمہ ایران کے لیے انتہائی اہم ہے، جبکہ ملک کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے اور یہ نکات کسی بھی مذاکراتی عمل میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے اس سخت مؤقف سے خطے میں جاری سفارتی کوششوں پر اثر پڑ سکتا ہے، اور آئندہ مذاکرات میں یہ نکات کلیدی حیثیت اختیار کر سکتے ہیں۔


