عمر میں اضافہ ایک فطری عمل ہے جسے روکا نہیں جا سکتا اور وقت کے ساتھ بڑھاپے کی علامات ہر انسان میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں، تاہم جدید تحقیقات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ایک خاص عادت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا کر اس عمل کی رفتار کو کافی حد تک سست کیا جا سکتا ہے۔
آسٹریلیا کی Edith Cowan University کی تحقیق کے مطابق اگر انسان سیاحت اور سفر کو اپنی روزمرہ زندگی میں شامل کر لے تو اس کے جسم اور ذہن دونوں پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
سفر کے دوران معمول کی زندگی سے کچھ وقت کے لیے دوری ملتی ہے جس سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے، جسمانی توازن بہتر ہوتا ہے اور اندرونی مرمت کے قدرتی عمل میں بہتری آتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ نئے لوگوں سے ملاقات، سماجی میل جول اور مختلف تجربات شخصیت کو مثبت بناتے ہیں جس سے جذباتی صحت بھی بہتر رہتی ہے۔
اگرچہ بڑھاپے کے عمل کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، لیکن تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ باقاعدہ سیاحت کرنے والے افراد میں جسمانی اور ذہنی کمزوری کی رفتار نسبتاً کم ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ دیگر مطالعات بھی یہ ظاہر کرتی ہیں کہ صحت مند طرز زندگی، بہتر غذا، مناسب نیند، بلڈ پریشر اور شوگر کا کنٹرول، جسمانی سرگرمی اور تمباکو نوشی سے پرہیز جیسے عوامل حیاتیاتی عمر کو سست کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر انسان اپنی زندگی میں سیاحت اور صحت مند عادات کو شامل کر لے تو وہ نہ صرف زیادہ متحرک اور خوش رہ سکتا ہے بلکہ بڑھاپے کے اثرات کو بھی کافی حد تک کم کر سکتا ہے۔


