دریائے لیطانی تک اسرائیلی پیش قدمی، لیکن کیا جنگی اہداف تاحال حاصل ہو سکےہیں؟

Date:

لبنان میں جاری جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے دریائے لیطانی کے بہاؤ تک رسائی کو ایک بڑی فوجی کامیابی قرار دیا ہے، تاہم میدانی حقائق اس دعوے سے مختلف تصویر پیش کر رہے ہیں۔

عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی افواج کی یہ پیش رفت محدود جغرافیائی دائرے میں ہوئی ہے اور اب تک کسی بھی علاقے پر مکمل اور پائیدار کنٹرول قائم نہیں کیا جا سکا۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج نے دریائے لیطانی تک پہنچنے کے لیے سرحد کے قریب ترین اور مختصر ترین راستے کا انتخاب کیا۔ اصبع الجلیل کے محور سے آگے بڑھتے ہوئے اسرائیلی افواج نے صرف تین کلومیٹر سے کچھ زائد فاصلے کو عبور کرنے میں تقریباً تین ماہ صرف کیے، جو شدید مزاحمت اور سخت لڑائی کا مظہر ہے۔

اس دوران اسرائیلی فوج نے پیش قدمی کے راستے میں واقع تقریباً آٹھ لبنانی دیہاتوں پر قبضہ کیا، جن میں عدیسہ، کفرکلا اور رب ثلاثین جیسے دیہات شامل ہیں جو پہلے ہی بڑی حد تک تباہ اور خالی ہو چکے تھے۔ ذرائع کے مطابق اس آپریشن میں اسرائیل نے اپنی چھتیسویں ڈویژن اور گولانی بریگیڈ جیسے ایلیٹ یونٹس کو بھی میدان میں اتارا۔

میدانی رپورٹس کے مطابق لبنانی مزاحمت نے گزشتہ تین ماہ کے دوران اسرائیلی پیش قدمی کو سست کرنے اور اسے جانی و مالی نقصان پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی وجہ سے اسرائیلی فوج نے وسیع فضائی اور توپخانے کی گولہ باری کے ساتھ ’’جھلسائی ہوئی زمین‘‘ کی حکمت عملی اختیار کی تاکہ مزاحمتی جنگجوؤں کی نقل و حرکت اور دوبارہ تعیناتی کو روکا جا سکے۔

عسکری مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسرائیلی افواج دریائے لیطانی کے ایک حصے تک پہنچ گئی ہیں، لیکن زمینی کنٹرول اب بھی غیر مستحکم ہے۔ سرحدی علاقوں اور عقبی محاذوں پر تعینات اسرائیلی دستے مسلسل مزاحمتی حملوں کی زد میں ہیں، جس کے باعث فوجی استحکام پیدا نہیں ہو سکا۔

زوطر الشرقیہ اور یحمر الشقیف جیسے علاقوں میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے، جہاں اسرائیلی افواج مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں جبکہ مزاحمت کی جانب سے شدید جھڑپیں جاری ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یحمر الشقیف، زوطر الشرقیہ، دبین اور الغندوریہ کے اطراف گزشتہ دو روز کے دوران درجنوں فضائی حملے اور توپخانے کی گولہ باری کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے بعض مقامات پر دیہاتوں میں براہ راست داخلے کے بجائے محاصرے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ یحمر الشقیف میں اسرائیلی دستوں نے شدید فضائی اور زمینی بمباری کی آڑ میں قلعہ الشقیف کے اطراف پیش قدمی اور محاصرے کی کوشش کی، تاہم مزاحمت کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج کی دریائے لیطانی تک رسائی کے باوجود لڑائی اب بھی مقبوضہ فلسطینی سرحد سے صرف تین سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر جاری ہے۔

مزید برآں اسرائیل کا وہ بنیادی ہدف بھی پورا نہیں ہو سکا جس کے تحت بالائی گلیل کی بستیوں کو مزاحمتی حملوں سے محفوظ بنانا مقصود تھا، کیونکہ مزاحمت اب بھی راکٹوں اور ڈرون حملوں کے ذریعے ان علاقوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

عسکری ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں دریائے لیطانی تک پہنچنا ایک محدود نوعیت کی فوجی کامیابی ضرور ہے، لیکن اسے جنگ کے اسٹریٹجک اہداف کے حصول یا فیصلہ کن فتح سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related

پہلا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 201 رنز کا ہدف

راولپنڈی میں کھیلے جارہے میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا...

بلوچستان کی ترقی کا اہم سنگِ میل، نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پہلی پرواز لینڈ کر گئی

گوادر کے نیو انٹرنیشنل  ائیر پورٹ پر ساؤتھ ائیر...