سکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے پیچھے افغانستان کا ہاتھ اور بھارتی اسپانسر شدہ فتنہ الخوارج کی ملی بھگت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق دھماکے سے قبل صبح سویرے ہی افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایسے پیغامات اور دھمکی آمیز پوسٹس سنائی دینے لگیں جو واقعے سے مشکوک طور پر ہم آہنگ تھیں۔
ذرائع نے بتایا کہ صبح 6:45 بجے افغان طالبان سے منسلک ایکس اکاؤنٹ سے “coming soon Islamabad” جیسی پوسٹس نمودار ہوئیں جبکہ افغان ملٹری پریڈ کے موقع پر بھی کچھ اکاؤنٹس نے لاہور میں افغان جھنڈا لہرانے اور اسلام آباد کو جلانے جیسے دھمکی آمیز بیانات جاری کیے تھے۔
اسی طرح ایک مقامی ہینڈل آماج نیوز نے 2 نومبر کو اسی نوعیت کی پوسٹس شیئر کیں، اور ایک اور اکاؤنٹ خراسان العربی نے واقعے کے فوراً بعد “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم” کے ساتھ پیغام شائع کیا، جسے ذرائع نے خطرناک اشارہ قرار دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر پیشگی پیغامات اور ان اکاؤنٹس کی سرگرمیاں اس امر کا ثبوت ہیں کہ افغان طالبان رجیم یا اس کے حامی اپنی کارروائیوں سے باز نہیں آئے اور انہیں پاکستان کے خلاف سازشوں میں ملوث کیا جا رہا ہے۔
بعض حلقے ان پوسٹس کو نہ صرف افغان بلکہ بھارت مخالف عناصر کی ملی بھگت کے شواہد بھی قرار دے رہے ہیں۔
کام اور تحقیقاتی ادارے سوشل میڈیا ٹریکنگ اور شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہیں تاکہ واقعے کی پوری نوعیت اور ممکنہ روابط کی تصدیق کی جا سکے، تاہم تاحال سرکاری تحقیقات کے بعد ہی کسی نتیجے کا اعلان کیا جائے گا، ذرائع نے کہا۔


