ورلڈ فورم فار پیس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا ہے کہ ہندوتوا نظریہ کشمیری شناخت اور ثقافت کے لیے براہِ راست خطرہ بن چکا ہے۔ وہ انسٹی ٹیوٹ آف کشمیر اسٹڈیز (IKS)، جامعہ آزاد جموں و کشمیر، مظفرآباد کے دورے کے دوران اساتذہ اور طلبہ سے خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی۔
ڈاکٹر فائی نے کہا کہ کشمیری عوام 1947 سے معاشی استحصال، ثقافتی زوال، تعلیمی پسماندگی اور فوجی جبر برداشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اب "نظامی بے دینی” (De-Islamization) کا خطرناک مرحلہ شروع ہو چکا ہے جو کشمیر کی مذہبی و ثقافتی شناخت کیلئے سنگین چیلنج ہے۔ ان کے مطابق کشمیری زبان کی تدریس پر پابندی لگا دی گئی ہے جبکہ ہندی کو لازمی مضمون بنا دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوتوا نظریہ کشمیر کی مخصوص مذہبی و تہذیبی وراثت مٹانے کی منظم کوشش ہے اور تعلیمی ادارے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے معروف اسکالر ڈاکٹر گریگوری اسٹینٹن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر نسل کشی کے دہانے پر کھڑا ہے، جبکہ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق آزاد صحافت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
ڈاکٹر فائی نے کشمیری قیادت کی حالتِ زار بیان کرتے ہوئے بتایا کہ یاسین ملک کو دو بار عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے اور مودی حکومت ان کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کر رہی ہے۔ شبر شاہ تقریباً چار دہائیوں سے قید میں ہیں جبکہ مسرت عالم کو 35 مرتبہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا۔
عالمی شہرت یافتہ انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز اب بھی پابند سلاسل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافت خاموش کرا دی گئی ہے، اختلافِ رائے جرم بنا دیا گیا ہے اور سول سوسائٹی کو عملاً مفلوج کر دیا گیا ہے۔ڈاکٹر فائی نے کہا کہ ان حالات میں انسٹی ٹیوٹ آف کشمیر اسٹڈیز کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔

IKS کا پس منظر
1986 میں قائم ہونے والا انسٹی ٹیوٹ آف کشمیر اسٹڈیز کشمیری زبان، ادب، تاریخ، ثقافت، فنون اور آثارِ قدیمہ پر تحقیق کا واحد جامع ادارہ ہے جو ایم ایس سی اور ایم فل سطح تک تعلیم فراہم کرتا ہے۔ 2008 میں پوسٹ گریجویٹ پروگرامز کے آغاز کے بعد سے ادارہ کشمیر سے متعلق متنوع علمی و تحقیقی جہتوں پر کام کر رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں ادارے نے مستقل فیکلٹی بھرتی کرکے تدریس اور تحقیق کا معیار مزید بہتر بنایا ہے۔ IKS کی جانب سے ثقافتی پروگرام، ورکشاپس، کانفرنسیں اور مطالعاتی دورے بھی منظم کیے جاتے ہیں تاکہ گلگت بلتستان، مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کی تاریخ و معاشرت کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
بین الاقوامی تعاون
ڈاکٹر فائی نے IKS اور جاپان کی ٹوکیو یونیورسٹی آف فورین اسٹڈیز (TUFS) کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیر مقدم کیا، جس کے تحت مشترکہ تحقیق، آن لائن لیکچرز اور کامیاب تکمیل پر TUFS کے سرٹیفکیٹس بھی فراہم کیے جائیں گے۔
جامعاتی قیادت کے خیالات
انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سمیرا شفیق نے کہا کہ ادارے کا مقصد کشمیر اسٹڈیز میں معیاری تحقیق اور تدریس کو فروغ دینا ہے جبکہ طلبہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھی نکھارا جا رہا ہے۔
رجسٹرار UAJK پروفیسر ڈاکٹر سعادت حنیف در نے rising living costs کے باعث طلبہ کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی اسکالرشپس میں توسیع، سہولیات میں بہتری اور مارکیٹ کے مطابق نصاب کی تیاری پر کام کر رہی ہے۔
ڈاکٹر فائی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر جمال خٹک سے بھی ملاقات ہوئی، جس میں علمی تعاون، علاقائی ترقی اور مسئلہ کشمیر سے متعلق آگاہی کے کردار پر گفتگو کی گئی۔
معروف کشمیری اسکالر ڈاکٹر ولید رسول نے IKS کے علمی اور انسانی حقوق پر مبنی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارہ مستقبل میں بھی کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا۔
سردار زبیر نے ادارے کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بطور معاونت ایک لاکھ روپے کا عطیہ دیا۔ پروفیسر وارس علی خان اور دیگر شرکا نے بھی IKS کی علمی خدمات اور مہمان نوازی کی تعریف کی۔


