ایران کی نیم سرکاری مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق خطیب جمعہ تہران، حاج علی اکبری نے کہا ہے کہ دشمن کی اصل کوشش آج ایرانی معاشرے کے ذہن اور پہچان پر حملہ کرنا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اسلامی معاشرے کی سوچ اور شناخت کمزور ہو جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ دشمن کے مقابلے میں ہوشیاری، نظم اور بیداری کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوں۔
نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں حاج علی اکبری نے کہا کہ دشمن کا مقصد عوام میں ذہنی تشویش پیدا کرنا، معاشرتی شناخت میں دراڑ ڈالنا اور اعتقادی سطح پر نفوذ کے ذریعے معاشرے کے اعصابی سکون کو برباد کرنا ہے۔
انہوں نے دانشوروں، خطباء، میڈیا کے کارکنان اور لکھاریوں کو خبردار کیا کہ وہ دشمن کے بنائے ہوئے دھوکے میں نہ پھنسیں، کیونکہ معمولی غفلت بھی دشمن کے فائدے میں جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن نے قلیل مدت میں معاشرے میں ذہنی اور نفسیاتی آشوب پیدا کرنے کی تمام توانائیاں صرف کر دی ہیں۔
حاج علی اکبری نے رہبر انقلاب کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بارہ روزہ جنگ میں دشمن کو سخت نقصان اٹھانا پڑا اور اب اسے ایران کے ساتھ براہِ راست مقابلہ کرنے کی جرأت نہیں رہی۔
انہوں نے واضح کیا کہ آج کی اصل جنگ روایتی نہیں بلکہ شناخت اور وجود کی جنگ ہے، جس میں امریکہ، اسرائیل اور بعض یورپی حکومتیں سرگرم ہیں۔
خطیب جمعہ نے کہا کہ اس فکری و شناختی جنگ میں ہر مومن اور انقلابی فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ دشمن کے نفسیاتی حملوں سے ہوشیار رہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میدان میں کامیابی صرف الہی نصرت اور رہبر معظم کی پیروی کے ذریعے ممکن ہے۔


