کراچی کے مختلف علاقوں میں نئے سال کے آغاز پر ہوائی فائرنگ کے متعدد واقعات پیش آئے جن کے نتیجے میں مجموعی طور پر 25 افراد زخمی ہو گئے، جن میں کم عمر بچیاں اور خواتین بھی شامل ہیں، جس سے شہر میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی۔
پولیس کے مطابق مختلف علاقوں میں بروقت کارروائیاں کرتے ہوئے ہوائی فائرنگ میں ملوث 56 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ زخمی ہونے والے شہریوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ کورنگی، گولیمار، فائیو اسٹار، نیو سبزی منڈی سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں ہوائی فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے جہاں شہری گولیوں کا نشانہ بنے۔
دوسری جانب سندھ کے دیگر شہروں میں بھی اسی نوعیت کے واقعات سامنے آئے، جہاں حیدرآباد میں سال نو کی خوشی میں کی گئی ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں 4 افراد زخمی ہوئے جبکہ نواب شاہ میں بھی ہوائی فائرنگ سے 2 افراد زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صوبے بھر میں پابندیوں کے باوجود بعض عناصر نے قانون کی خلاف ورزی کی۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ سال نو کے موقع پر محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے کراچی میں اسلحے کی نمائش اور ہوائی فائرنگ پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود ہوائی فائرنگ کے واقعات پیش آئے۔
ان واقعات کی روک تھام اور ملوث افراد کی نشاندہی کے لیے پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا فیصلہ کرتے ہوئے ڈرون کیمروں کے ذریعے نگرانی کا عمل شروع کیا۔
پولیس حکام کے مطابق لیاقت آباد، شریف آباد، عزیزآباد، ناظم آباد اور دیگر حساس علاقوں میں ڈرون کیمرے اڑائے گئے تاکہ ہوائی فائرنگ کرنے والوں کی ویڈیوز ریکارڈ کی جا سکیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 16 سے زائد تھانوں کو ڈرون کیمرے فراہم کیے جا چکے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی مؤثر روک تھام کی جا سکے اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔


