دنیا 2025 کے آخر میں ایک نازک اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں ایک طرف ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسانیت کے لیے نئے امکانات پیدا کیے، وہیں دوسری طرف بدامنی، علاقائی تنازعات اور عالمی سیاست میں بڑھتی کشیدگی نے عالمی امن کے لیے شدید خطرات کھڑے کر دیے ہیں، اور دسمبر 2025 میں رونما ہونے والے واقعات نے واضح کر دیا کہ آنے والا وقت نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے انتہائی نازک اور غیر یقینی ہے۔
مئی 2025 میں پاکستان نے مختصر جنگ کے دوران بھارت کو شکست دے کر عالمی سطح پر اپنی اہمیت ثابت کی، اور اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے بڑے حامی بن گئے، لیکن عالمی حالات کی کشیدگی جلد ہی بڑھ گئی جب اسرائیل نے ایران اور قطر پر حملے کیے، جس کے بعد سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر کے علاقائی تعلقات میں نئی جہت پیدا کی، جس پر پاکستانی عوام نے جشن منایا۔
چند دن بعد مصر کے شہر شرم الشیخ میں صدر ٹرمپ نے پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک کے قائدین کے ساتھ غزہ امن پلان کا اعلان کیا، اور حماس و اسرائیل کے درمیان سیز فائر کا معاہدہ بھی طے پایا، جس پر ابتدا میں خوشی منائی گئی لیکن جلد ہی یہ واضح ہوا کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام جاری رہا اور ٹرمپ کا امن پلان اصل میں فلسطینیوں کو غزہ سے نکال کر دیگر ممالک میں بسانے کے لیے بنایا گیا تھا، جسے میں نے تنقید کا نشانہ بنایا اور پاکستانی فوج کو غزہ نہ بھیجنے کی سفارش کی۔
دسمبر 2025 میں پاکستان کے ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ پاکستان کی فوج حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے غزہ نہیں جائے گی، اور یہ فیصلہ سعودی عرب، ترکی اور دیگر اہم مسلم ممالک کے مشورے سے کیا گیا، جس سے ٹرمپ انتظامیہ کو شدید دھچکا لگا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ پاکستان اور سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کر لیں۔
پاکستان کے اس فیصلے کے فوری بعد اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا متنازعہ اعلان کر دیا تاکہ غزہ کے فلسطینیوں کو وہاں بسایا جا سکے، جسے پاکستان اور او آئی سی کے دیگر رکن ممالک نے صومالیہ کی سالمیت پر حملہ قرار دیا اور اقوام متحدہ میں اس منصوبے کی شدید مذمت کی۔
اس دوران سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی بھی بڑھ گئی، جہاں سعودی عرب نے الزام لگایا کہ امارات یمن کے علیحدگی پسندوں کی مدد کر رہا ہے، جس کے بعد سعودی فورسز نے یمنی علیحدگی پسندوں کے لیے ہتھیار لے جانے والے ایک بحری جہاز پر حملہ کیا، اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار نے معاملے کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کیں، جس سے امارات نے اپنی فورسز واپس بلانے پر آمادگی ظاہر کی، تاہم سعودی عرب اور امارات کے درمیان اختلافات کی تاریخ پرانی ہے اور البریمی و العین علاقوں کے کنٹرول پر تنازعات، جو 1974 میں شیخ زاید اور شاہ فیصل نے جدہ معاہدے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی تھی، آج بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
یہ تمام کشیدگیاں، فلسطین اور غزہ میں جاری قتل عام، صومالی لینڈ کے منصوبے، یمن اور دیگر خطوں میں تنازعات، اور اسرائیل کی جارحیت یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا ممکنہ طور پر تیسری عالمی جنگ کے قریب جا رہی ہے، جس میں نیتن یاہو اور اس کے اتحادی، خصوصاً مودی، ایک مرکزی کردار ادا کریں گے۔
اس خطرناک صورتحال سے بچنے کے لیے 2026 میں پاکستان سمیت مسلم ممالک کو متحد ہو کر نیتن یاہو کے منصوبوں کو روکنا ہوگا، اور اس کے لیے پاکستان کے اندر بھی سیاسی استحکام ناگزیر ہے تاکہ عالمی سطح پر اس کی آواز سنجیدگی سے سنی جائے۔
مضمون میں زور دیا گیا ہے کہ صرف حکومت اور اپوزیشن میں سیز فائر کافی نہیں، بلکہ بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں موجود شکایات اور مسائل بھی حل کیے جائیں، کیونکہ اگر یہ مسائل برقرار رہے تو آنے والا وقت انتہائی غیر یقینی اور خطرناک ہو سکتا ہے، اور کمزور سیاسی حکومت کے لیے اس پر قابو پانا مشکل ہوگا، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر امن اور استحکام کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔


