تحریر انصار مدنی
پاکستان کے مختلف خطّوں میں بسنے والے سنجیدہ اور باشعور افراد اپنے بزرگوں کے رہن سہن، سماجی رویّوں اور تہذیبی اقدار کو نہایت وقار اور سلیقے کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ یہ لوگ محض ثقافت کی نمائش نہیں کرتے بلکہ اپنے ثقافتی اظہارات کے پس منظر میں پوشیدہ اخلاقی قدروں، خاندانی عظمت اور انسانی خدمت کے فلسفے کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے ثقافتی رویّے نسل در نسل منتقل ہو کر معاشرے کی فکری و اخلاقی بنیادوں کو مضبوط بناتے ہیں۔
آج سندھی ثقافت کے چند روشن اقدار سے شناسائی کا موقع ملا تو یہ احساس مزید گہرا ہوا کہ پاکستان کی ہر ثقافت اپنے اندر انسان دوستی، سادگی، برداشت اور مہمان نوازی جیسی آفاقی قدروں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ سندھی ثقافت کی روایتی شفقت، عاجزی اور مہمان کے احترام کا پہلو ہمیں اس نتیجے تک لے آیا کہ یہی اوصاف ہمیں گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں بسنے والے انسانوں کے بود و باش میں بھی جھلکتے نظر آتے ہیں۔ برف پوش پہاڑوں، خالص موسم اور سادہ طرزِ زندگی میں پروان چڑھنے والی یہ قومیں اپنے رویّوں میں کشادگیٔ قلب اور خلوص کی دولت رکھتی ہیں۔
گلگت بلتستان ہو یا سندھ، ہمارے بزرگوں نے قدرتی موسموں کی سختیوں، وسائل کی کمی اور زمانے کی آزمائشوں کے باوجود اپنے خاندانی وقار، سماجی ہم آہنگی اور مہمان نوازی کو کبھی کمزور نہیں ہونے دیا۔ ان کے نزدیک مہمان محض ایک فرد نہیں بلکہ خدا کی رحمت سمجھا جاتا تھا، اور انسانیت کی خدمت محض ایک عمل نہیں بلکہ زندگی کا مقصد۔
اللہ تعالیٰ ہمارے ان بزرگوں کے درجات بلند فرمائے جنہوں نے ثقافت کو محض لباس یا رسم و رواج تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے اخلاق، محبت، خدمت اور باہمی احترام کا آئینہ بنا دیا۔ آج اگر ہم ان اقدار کو سمجھ لیں، اپنائیں اور آگے منتقل کریں تو یہی ثقافتی شعور ہمارے معاشرے کو نفرت، تقسیم اور بے حسی سے نکال کر وحدت، امن اور انسان دوستی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔


