واشنگٹن: امریکا میں گزشتہ تین برسوں کے دوران جوہری اور ایرو اسپیس شعبوں سے وابستہ کم از کم 10 سے 11 سائنسدانوں کی پراسرار اموات اور گمشدگیوں نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ حکام نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2023 سے 2026 کے درمیان متعدد سائنسدان، جو حساس نوعیت کے دفاعی اور سائنسی پروگرامز سے وابستہ تھے، یا تو اچانک لاپتہ ہو گئے یا مشکوک حالات میں مردہ پائے گئے۔ ان میں کچھ افراد امریکی خلائی ادارے ناسا، لاس الاموس نیشنل لیبارٹری اور دیگر حساس اداروں سے وابستہ تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد میں بعض کے پاس انتہائی خفیہ معلومات تک رسائی تھی، جس کے باعث ان واقعات نے قومی سلامتی کے حوالے سے بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاملہ نہایت سنجیدہ ہے اور وہ خود اس پر ہونے والے ایک اہم اجلاس میں شریک رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ واقعات محض اتفاق ہوں، تاہم جلد اس کی وجوہات سامنے آ جائیں گی۔
دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا کہ یہ تمام واقعات آپس میں جڑے ہوئے ہیں یا کسی منظم سازش کا حصہ ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق کچھ اموات کو حادثہ یا ذاتی وجوہات کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ بعض کیسز میں مجرمانہ پہلو بھی زیرِ غور ہے۔
ماہرین کے مطابق چونکہ یہ تمام افراد حساس سائنسی اور دفاعی شعبوں سے وابستہ تھے، اس لیے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے اور ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جلد حقائق سامنے لائے جائیں گے، تاہم فی الحال ان پراسرار واقعات کی اصل وجہ بدستور ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔


