امریکی سینیٹ نے ایران میں امریکی فوجی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق ایک وار پاورز قرارداد ایک بار پھر مسترد کر دی۔ جمعرات کو ہونے والی ووٹنگ میں قرارداد کو 47 ووٹ ملے جبکہ 50 سینیٹرز نے اس کی مخالفت کی۔ اس کے ساتھ ہی یہ چھٹی مرتبہ ہے کہ سینیٹ نے اس نوعیت کی قرارداد منظور کرنے سے انکار کیا ہے۔
یہ قرارداد ڈیموکریٹک سینیٹر ایڈم شیف کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جس کا مقصد ایران میں امریکی فوجی کارروائیوں کو محدود کرنا اور کانگریس کے کردار کو مؤثر بنانا تھا۔
پینسلوینیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر جون فٹرمین اپنی جماعت کے واحد رکن تھے جنہوں نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا، جبکہ ری پبلکن سینیٹرز سوزن کولنز اور کینٹکی سے تعلق رکھنے والے ایک ری پبلکن رکن نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔
یہ پہلا موقع تھا کہ سوزن کولنز نے اس نوعیت کی قرارداد کی حمایت کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ صدر کے اختیارات بطور کمانڈر اِن چیف لامحدود نہیں ہو سکتے اور آئین کے تحت جنگ اور امن سے متعلق فیصلوں میں کانگریس کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
سوزن کولنز کے مطابق وار پاورز قرارداد کے تحت کسی بھی غیر ملکی تنازع میں امریکی شمولیت کے لیے 60 روز کے اندر کانگریس کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی مزید فوجی کارروائی سے قبل واضح اہداف، قابلِ عمل حکمتِ عملی اور تنازع کے خاتمے کا واضح منصوبہ سامنے آنا چاہیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق قرارداد کی مسلسل ناکامی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اب بھی گہری سیاسی تقسیم موجود ہے، جبکہ کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے اختیارات سے متعلق بحث بھی بدستور جاری ہے۔


