جیانی انفینٹینو نے کہا ہے کہ ایران اس سال امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ میں ضرور شرکت کرے گا، اور کھیل کو سیاست سے الگ رکھا جانا چاہیے۔
ان کے مطابق ایران کی شرکت کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کے باوجود فٹبال کا مقصد دنیا کو جوڑنا ہے، نہ کہ تقسیم کرنا۔ انہوں نے کہا کہ “ہمیں متحد رہنا ہے اور لوگوں کو قریب لانا ہے، اسی لیے ایران کو بھی امریکہ میں کھیلنے دینا چاہیے۔”
ایران کی ٹیم کی شرکت پر اس وقت شکوک و شبہات پائے جا رہے تھے، جس کی وجہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی اور خطے میں جنگی صورتحال بتائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب فیفا کانگریس کا اجلاس کینیڈا میں منعقد ہوا، جس میں ایران کے نمائندے موجود نہیں تھے۔ رپورٹ کے مطابق 211 ممالک میں سے ایران واحد ملک تھا جس کا وفد اجلاس میں شریک نہ ہو سکا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایرانی وفد کو امیگریشن اور بارڈر کنٹرول کے مسائل کے باعث واپس لوٹنا پڑا، جبکہ کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے مؤقف اختیار کیا کہ ممکنہ طور پر ایرانی وفد کے ویزا یا داخلے کی اجازت منسوخ کر دی گئی تھی۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے آئی آر جی سی سے تعلقات ہیں، تاہم اس حوالے سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
جمعرات کو جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کی ورلڈ کپ شرکت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اگر فیفا صدر نے اجازت دی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں، اور ایران کو کھیلنے دینا چاہیے۔
فیفا کی جانب سے اس مؤقف کے بعد اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ سیاسی کشیدگی کے باوجود ایران کی ورلڈ کپ میں شرکت برقرار رہنے کا امکان موجود ہے۔


