ٹرمپ ایڈامنسٹریشن کے ایک سینئر عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل کے اوائل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری لڑائی مؤثر طور پر ختم ہو چکی ہے۔
بی بی سی کے مطابق یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں وار پاورز ایکٹ سے متعلق کانگریس کی مقررہ آئینی مدت اختتام کے قریب پہنچ رہی ہے۔ اس قانون کے تحت صدر کو محدود مدت تک کانگریس کی منظوری کے بغیر فوجی کارروائی جاری رکھنے کی اجازت حاصل ہوتی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس جمعے تک کا وقت ہے کہ وہ یا تو ایران کے ساتھ فوجی تنازع کے خاتمے کا اعلان کریں یا پھر کارروائی جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے باضابطہ منظوری طلب کریں اور اس کی وجوہات پیش کریں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مذکورہ عہدیدار نے انتظامیہ کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ “وار پاورز ایکٹ کے تناظر میں 28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی اب ختم ہو چکی ہے۔”
عہدیدار کے مطابق تین ہفتے قبل ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان کسی قسم کی براہِ راست جھڑپ یا فوجی کارروائی رپورٹ نہیں ہوئی۔
1973 کے وار پاورز قانون کے تحت امریکی صدر 60 روز تک کانگریس کی پیشگی اجازت کے بغیر فوجی کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں، تاہم اس مدت کے بعد کارروائی کے تسلسل کے لیے کانگریس سے منظوری یا قومی سلامتی کی بنیاد پر محدود توسیع درکار ہوتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا یہ مؤقف کانگریس میں جاری اس بحث کو متاثر کر سکتا ہے جس میں ایران سے متعلق امریکی فوجی اختیارات، جنگی پالیسی اور آئینی نگرانی کے معاملات زیرِ غور ہیں۔


