امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق “Persian Gulf Strait Authority” نامی ادارے کا قیام پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے مبینہ طور پر بھتہ وصولی کی ایک نئی کوشش ہے، اسی بنیاد پر اس ادارے کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔
محکمہ خزانہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی بحری تجارت کے تحفظ اور خطے میں آزادانہ جہاز رانی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا غیر قانونی فیسوں کا نظام عالمی معیشت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے اس امریکی اقدام پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔


