امریکی سفارت خانے کے عملے کی کیف سے روانگی، یوکرین میں تشویش کی لہر

Date:

روس کی یوکرین کے دارالحکومت کیف پر ہونے والےشدید ترین حملوں کے بعد کیف میں امریکی سفارت خانے کے عملے کے کئی ارکان نے ملک چھوڑ دیا ہے

یہ صورتحال اس وقت مزید حساس ہوگئی جب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس نے قبرص میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روسی دھمکیوں کے باوجود تقریباً تمام غیر ملکی سفارت خانے کیف میں موجود رہے،سوائے ایک کے جس کا اشارہ امریکی سفارت خانے کی جانب تھا۔

یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے مشیر دمترو لیتوِن نے بھی تصدیق کی کہ حالیہ روسی بڑے حملے کے دوران کچھ امریکی سفارتکاروں نے عارضی طور پر کیف چھوڑ دیا تھا، تاہم انہوں نے ان تمام سفارت خانوں کا شکریہ ادا کیا جو اب بھی کیف میں کام کر رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی اہلکاروں کی سلامتی اولین ترجیح ہے اور سکیورٹی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق قائم مقام امریکی سفیر جولی ڈیوس حالیہ دنوں میں مغربی یوکرین کے شہر لیویو میں موجود تھیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکا نے کیف میں اپنے سفارتی عملے کی تعداد کم کی ہو۔ روس۔یوکرین جنگ کے آغاز سے قبل 2022 میں بھی واشنگٹن نے روسی حملے کے خدشات کے پیش نظر اپنے سفارت خانے کے بیشتر عملے کو کیف سے لیویو منتقل کردیا تھا۔

اس وقت امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ روسی افواج کی غیر معمولی نقل و حرکت کے باعث یہ اقدام احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ پیش رفت اس بات کی علامت ہوسکتی ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جبکہ مغربی ممالک اپنے سفارتی عملے کی سلامتی کے حوالے سے غیر معمولی احتیاط برت رہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related

ہم نے ایران کے خلاف کارروائی پاکستان کی درخواست پر روکی۔ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران...

اُمید ہےکہ ایران امریکا امن معاہدہ جلد طے پا جائے گا، وزیر اعظم شہباز شریف

وزیرِاعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان...