امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران ڈیل سے متعلق جاری بیان میں کہا ہے کہ میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے خاتمے سے متعلق ممکنہ معاہدے کے بارے میں بہت سی غلط اور گمراہ کن معلومات دیکھ رہا ہوں۔
سب سے پہلے، ایران کو کوئی نقد رقم نہیں دی جا رہی اور نہ ہی صرف کسی معاہدے پر دستخط کرنے یا کسی اجلاس میں شرکت کے بدلے کوئی فنڈز جاری کیے جا رہے ہیں۔
یہ معاہدہ اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تحفظات کو ترجیح دی جائے، اور اگر اسلامی جمہوریہ ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے تو اس کے اقتصادی فوائد ایران اور پورے خطے تک پہنچیں گے۔
اس معاہدے میں خطے کی صورتِ حال بدلنے اور دیرپا امن کے قیام کی صلاحیت موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران سامنے آنے والی رپورٹس میں مجھے چند عجیب و غریب باتیں بھی نظر آئی ہیں۔
پہلی بات یہ کہ وہ لوگ جو ایک ماہ قبل درست طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک تاریخی صدر قرار دے رہے تھے، اب غیر مصدقہ میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر اس معاہدے پر تنقید کر رہے ہیں۔
دوسری بات یہ کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی کسی بات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، وہی لوگ نامعلوم ذرائع سے چلنے والی سوشل میڈیا پوسٹس پر یقین کر رہے ہیں۔صدر ہمیں ایک اچھا نتیجہ دلائیں گے، چاہے وہ کسی بھی طریقے سے حاصل کیا جائے۔


