یومِ عاشور پر پوری دنیا کی طرح پاکستان بھر میں بھی حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کو پرسہ پیش کیا جا رہا ہے۔ گلی گلی، قریہ قریہ عزاداری اور ماتم داری کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ "یا حسینؑ سلام، یا حسینؑ سلام” کی صداؤں سے فضا گونج اٹھی ہے۔
عشاقِ حسینؑ اور عزادارانِ مظلومِ کربلا کے قافلے علم، تابوت اور شبیہِ ذوالجناح کے ہمراہ نوحہ و ماتم کرتے ہوئے شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ مرد، خواتین، بزرگ اور بچے بڑی تعداد میں جلوسوں میں شریک ہیں اور حضرت امام حسینؑ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی لازوال قربانی کو یاد کر رہے ہیں۔
لاہور میں نثار حویلی، اندرون موچی گیٹ سے برآمد ہونے والا مرکزی جلوس اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا کربلا گامے شاہ کی جانب رواں دواں ہے۔ جلوس میں ہزاروں عزادار گریہ و زاری، نوحہ خوانی اور سینہ زنی کرتے ہوئے شہدائے کربلا کو پرسہ پیش کر رہے ہیں۔ سینہ زنی کے روح پرور مناظر کربلا کی مظلومیت اور حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔
کراچی میں نشتر پارک سے برآمد ہونے والا مرکزی جلوس اپنے مقررہ راستوں سے گزرتا ہوا اپنی منزل پر اختتام پذیر ہوگا، جبکہ راولپنڈی میں یومِ عاشور کا مرکزی جلوس تیلی محلہ امام بارگاہ سے برآمد ہو کر اپنے روایتی راستوں سے گزرنے کے بعد اختتام پذیر ہوگا۔
اسی طرح ملتان، پشاور، کوئٹہ، گلگت، اسکردو، مظفرآباد اور ملک کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں بھی یومِ عاشور کے مرکزی جلوس نکالے جا رہے ہیں، جہاں عزادارانِ حسینؑ نوحہ خوانی، سینہ زنی اور ماتم کے ذریعے حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔
ملک بھر میں یومِ عاشور کے موقع پر سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ جلوسوں اور مجالس کی حفاظت کے لیے پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات ہیں، جبکہ حساس علاقوں میں خصوصی حفاظتی اقدامات، نگرانی اور ٹریفک پلان بھی نافذ کیا گیا ہے تاکہ عزاداران اپنے مذہبی فرائض پرامن ماحول میں ادا کر سکیں۔


