ایران نے امریکا اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان کو غیر ذمہ دارانہ، اشتعال انگیز اور داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پرامن جوہری پروگرام کے بارے میں اسرائیل اور امریکا بار بار بڑا جھوٹ دہرا رہے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اور خلیجی ممالک کا مشترکہ اعلامیہ خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے۔ وزارت کے مطابق امریکا کی جانب سے خلیجی ممالک کی سلامتی کے تحفظ کے دعوے محض کھوکھلے بیانات ہیں اور زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔
بیان میں کہا گیا کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال سے واضح ہو چکا ہے کہ امریکا نے خلیجی ممالک کی سلامتی اور باہمی تعلقات کو نظر انداز کیا ہے۔ ایران کے مطابق امریکی فوجی موجودگی خطے کے عوام کے لیے سلامتی کی ضمانت نہیں بلکہ عدم استحکام اور بدامنی کا سبب بنی ہوئی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے ان خلیجی ممالک پر بھی زور دیا جن کی سرزمین مبینہ طور پر ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال ہوئی، کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔ ساتھ ہی ایران نے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کو مغربی ایشیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے کے ایرانی اقدام میں شامل ہونے کی دعوت دی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ خلیجی ممالک کو حسنِ ہمسائیگی کے اصول پر عمل کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان کی سرزمین، فضائی حدود یا تنصیبات کسی تیسرے فریق کی جانب سے ایران کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہوں۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر علی اکبر ولایتی نے کہا کہ خلیج کے عرب ممالک کا استحکام آبنائے ہرمز کے اہم بحری راستے کے انتظام میں ایران کے تاریخی کردار سے وابستہ رہا ہے۔ انہوں نے مغربی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مغرب نے خطے کو وحشت اور وسائل کی لوٹ مار کے سوا کچھ نہیں دیا۔
علی اکبر ولایتی نے خطے کے بعض سیاسی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خوش نما بیانات پر انحصار کرنے کے بجائے زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
واضح رہے کہ امریکا اور خلیج تعاون کونسل کے چھ رکن ممالک نے ایک روز قبل مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، ڈرون صلاحیت اور تہران کی جانب سے مسلح گروہوں کی مبینہ حمایت جیسے معاملات سے نمٹنا ضروری ہے۔ مشترکہ بیان میں آبنائے ہرمز میں بغیر کسی فیس، ٹیکس یا پابندی کے آزادانہ بحری آمدورفت کی بھی حمایت کی گئی تھی۔


