وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں میں مزید کمی ہوئی تو اس کا فائدہ براہِ راست عوام کو منتقل کیا جائے گا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے بتایا کہ انہوں نے قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے سامنے تمام حقائق رکھے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ خام تیل کی عالمی قیمتیں جنگ سے پہلے والی سطح پر واپس آ چکی ہیں، تاہم پاکستان جو ریفائنڈ پیٹرول درآمد کرتا ہے، اس کی قیمت اب بھی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 15 ڈالر فی بیرل زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی پیٹرول کی ضروریات کا 70 سے 80 فیصد درآمد کرتا ہے، اسی وجہ سے درآمدی قیمتیں زیادہ ہونے کا اثر مقامی مارکیٹ پر بھی پڑتا ہے۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق جب بھی قیمتوں میں کمی کی گنجائش پیدا ہوئی، وزیراعظم نے عوام کو ریلیف فراہم کیا اور پیٹرول کی قیمت میں 70 سے 80 روپے تک کمی کی گئی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مستقبل میں بھی عالمی منڈی میں قیمتیں مزید کم ہونے کی صورت میں اس کا فائدہ صارفین تک پہنچایا جائے گا۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ حالیہ جنگی صورتحال کے دوران اسٹریٹجک ذخائر اور محدود وسائل کے باوجود ملک میں تیل کی فراہمی کا نظام متاثر نہیں ہوا۔ ان کے مطابق اسٹریٹجک آئل اسٹوریج کے قیام سے متعلق ایک بین الاقوامی اسٹڈی شروع کی گئی ہے، جس پر دو عالمی فرمیں کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تیل اور گیس کے نئے ذخائر کی تلاش کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر ہے، کیونکہ ادائیگیوں کے بغیر کمپنیاں توانائی کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری نہیں کر سکتیں۔
واضح رہے کہ حکومت نے 4 جولائی کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے 97 پیسے فی لیٹر کمی کی تھی، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 297 روپے 53 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 309 روپے 50 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی۔


