انڈس واٹر ٹریٹی کیا ہے؟پانی کو دوستی کی بنیاد کیسے بنایا جائے؟

Date:

تحریر : عارف کاظمی

پانی،،حیات کا سرچشمہ، کہتے ہیں جہاں پانی ہے، وہاں زندگی ہے،لیکن جب پانی پر حق چھین لیا جائے یعنی جب پانی کی تقسیم انصاف پر مبنی نہ ہو، تو یہی زندگی کا وسیلہ، دشمنی کا ایندھن بن سکتا ہےیعنی وہی پانی موت کا پیغام بھی بن سکتا ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی ایک خاموش جنگ جاری ہے،،،جو دریاؤں کے بہاؤ میں چھپی ہے۔دراصل برصغیر کی تقسیم کے وقت پانی کا سوال شاید سب سے کم زیر بحث آیا،اورمستقبل کے اس اہم ترین مسئلے پر کسی نے توجہ نہیں دی لیکن یہ سوال بعد میں ایک بڑا تنازعہ بن گیا۔اورآج صورتحال یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کا تنازعہ جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے،انیس سو سینتالیس میں جب برصغیر تقسیم ہوا توسرحدیں تو بن گئیں، لیکن دریاؤں کا بہاؤ رکا نہیں،کیوں کہ انگریز سرکار نےیونین جیک اترنے سے پہلے ہی سندھ طاس کو دنیا کا سب سے بڑا آبپاشی نظام مہیا کرچکے تھے۔یہاں انھوں نے جو فارمولے تشکیل دیےتھے وہ دنیا میں ہر جگہ نہروں کی تعمیر اور ان کو چلانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں ۔
مگر انیس سو سینتالیس میں تقسیم ہند کے فورا بعد سب کچھ بدل گیا،انگریز سرکاری کی بھرپور خواہش کےباؤجود کہ نئے وجود میں آنے والے دونوں ملک ایک معاہدہ کر لیں کہ وہ اس سارے نظام کو ایک اکائی کی طرح چلائیں
مگر دونوں فریق ایک دوسرے پر اعتبار کرنے کے لیے کسی طورتیار نہیں تھے، لہذادونوں نےبڑی سختی سے یہ تجویز رد کردی،۔پاکستان کا خیال تھا اس طرح وہ بھارت کے رحم و کرم پر رہے گا، جبکہ اس وقت جواہر لال نہرونے تو بڑے سیدھے الفاظ میں کہدیا کہ بھارت کے دریا بھارت کا مسلہ ہیں۔کیوں کو ان کویہ امید تھی کہ کشمیر میں مسلم اکثریت کے باوجود وہاں کا ہندو راجا بھارت کے ساتھ شامل ہونا پسند کرے گایا شاید ان کے درمیان اندرون خانہ کوئی معاہدہ بھی ہو چکا تھایوں کشمیر کے بھارت میں شامل ہونے کی صورت میں دریاؤں پر اس کی بالادستی قائم رہے گی۔ان کے خیال میں وہ پاکستان سے پانی کے لیے اپنی من مانی شرائط منوا سکتا تھا۔بعد میں ہوا بھی یہی کہ تقسیم کے وقت گوداسپور کا مسلم اکثریت کا علاقہ بھارت کے حوالے کرکے کشمیر کا زمینی راستہ دے دیا گیا


یوں بھارت نے کشمیر پر قبضہ کرکے پنڈت نہرو کی امیدوں کے عین مطابق پاکستان کو پانی فراہم کرنے والے دریاؤں پر مکمل قبضہ کرلیا۔پجند کے پانچوں دریا مغرب میں پاکستان پہنچنے سے پہلے اس علاقے سے بہتے ہوئے آتے تھے جس پر اب بھارت قابض ہو چکا تھا۔دریائے سندھ بھی بھارت کے مقبوضہ علاقے لداخ کے مقام سے بہتا ہوا پاکستانی حدود میں داخل ہوتا ہے۔لیکن ہمالیہ کی دور دراز گھاٹیوں میں بہنے کی وجہ سے وہاں اس کا رخ بدلنا ممکن نہیں،تاہم پانی کی تقسیم کے لیے دونوں دریاؤں راوی اور ستلج پر قائم تمام اہم ہیڈ ورکس بھارت کے قبضہ میں آگئے تھے
یوں بھارت اس پوزیشن میں آگیا تھا کہ وہ جب چاہے پاکستان کو پانی کی سپلائی روک سکتا تھا اور ہوا بھی یہی اس نے آزادی کے فوراً بعد پاکستان کا پانی روک لیا۔جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے مابین آبی تنازعہ پیدا ہوا،تاہم مارچ انیس سو اڑتالیس تک کیلئے ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جس میں تنازعات کے حل کیلئے ایک کمیٹی بھی تجویز کرلی گئی۔تاہم مارچ میں عین اسی دن جب معاہدے کی مدت ختم ہوئی بھارت نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے راوی اور ستلج کا پانی روک دیا، اس دوران کسانوں نے نے ابھی اپنی گرمیوں کی فصلوں کی بوائی شروع کی تھی، پانی بند ہونے واکی وجہ سے لاکھوں ایکڑ پر مشتعمل فصلیں مکمل طورپر تباہ ہوگئیں۔بعد میں بھارت نے موقف اختیار کیا کہ یہ سب کچھ غلط فہمی کی بنا پرہوا ہےلیکن پاکستان کا خیال تھا کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہوا تھا اور اس کا مقصد پاکستان کو تباہ و برباد کرکےاپنا محتاج کرنا تھا تاکہ وہ دوبارہ بھارت میں انضمام پر مجبور ہو جائے۔اس کے بعد بھی بھارت نے کئی مواقع پر اور خاص طورپر جب برصغیر کے تمام مغربی علاقوں میں پانی کی سپلائی میں کمی ہوتی تھی تو پاکستان کا پانی اپنے استعمال کے لیے روک لیتا تھا۔


دونوں ممالک کے مابین پانی کے مسئلے پربڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے عالمی بینک نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔انیس سو اکیاون میں عالی بینک نےبڑی کوشش کی کہ دونوں ممالک سندھ طاس نظام کو ایک وحدت کے طورپر چلانے کیلئے آپس میں تعاون کرلیں تاہم جلد یہ واضح ہو گیا کہ بھارت کسی ایسے معاہدے کا خواہش مند نہیں تھا جس کے تحت اس کا دریاؤں پر سے کنڑول ختم ہوجائے۔جب کہ پاکستان کو بھی کسی صورت میں بھارت کی بادستی اور دریاؤں پر پورا کنڑول منظور نہیں تھا۔انیس سو ساٹھ تک دونوں ملکوں میں مفادات کا توازن تقسیم کی نسبت ہموار ہو چکا تھا اور آخرکاعالمی بینک بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کروانے میں کامیاب ہو گیا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان انیس ستمبر انیس سو ساٹھ میں دریائے سندھ اور دوسرے دریاوں کا پانی منصفانہ طور پر حصہ داری کا معاہدہ ہوا، جو سندھ طاس معاہدہ کہلاتا ہے۔اس وقت انڈیا کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور پاکستان کے اس وقت کے سربراہ مملکت جنرل ایوب خان نے کراچی میں اس معاہدے پر دستخط کیے۔اس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں یعنی سندھ، جہلم اور چناب کوپاکستان کے کنٹرول میں دے دیا گیااس کے تحت ان دریاؤں کے اسی فیصد پانی پر پاکستان کا حق ہے۔بھارت کو ان دریاؤں کے بہتے ہوئے پانی سے بجلی پیدا کرنے کا حق ہے لیکن اسے پانی ذخیرہ کرنے یا اس کے بہاؤ کو کم کرنے کا حق نہیں ہے۔بھارت نے وعدہ کیا کہ وہ پاکستان میں ان کے بہاوَ میں کبھی کوئی مداخلت نہیں کرے گا،جبکہ مشرقی دریاؤں یعنی راوی، بیاس اور ستلج پر بھارت کا حق تسلیم کرلیا گیا۔انڈیا کو ان دریاؤں پر پراجیکٹ وغیرہ بنانے کا حق حاصل ہے جن پر پاکستان اعتراض نہیں کر سکتا۔اس کے ساتھ ہی یہ امیدبھی کی گئی تھی کہ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے کاشتکاروں کے لیے خوشحالی لائے گا اور امن، خیر سگالی اور دوستی کا ضامن ہوگا۔

دونوں ممالک نے دریاؤں کے حوالے سے اپنے مشترکہ مفادات کو تسلیم کرتے ہوئے اور پانی کےبہترانتظام کے لیے مستقل انڈس واٹر کمیشن کا قیام عمل میں لایا۔جو بھارت اور پاکستان کے کمشنروں پر مشتمل تھا ہائیڈرولوجیکل اور موسمیاتی مراکز کا ایک مربوط نظام بھی قائم کیا گیا ۔ جس کی معلومات تک رسائی دونوں ممالک کو حاصل تھی یوں انڈس واٹر ٹریٹی کو دنیا کا کامیاب ترین بین الاقوامی معاہدہ قرار دیا جاتا رہا ہے، جو انیس سو ساٹھ سے اب تک دونوں ملکوں کے درمیان جاری جنگوں کے باوجود برقرار رہا۔اگرچہ دونوں ممالک میں معاہدہ موجود ہونے کے باؤجود زمین پر تنازعات کبھی ختم نہیں ہوئے۔اس معاہدے میں مشکلات اس وقت شروع ہوئیں جب انڈیا نے مغربی دریاؤں پر پن بجلی کے منصوبے بنانے شروع کیے۔ پاکستان کو یہ تشویش تھی کہ ان منصوبوں سے اس کی طرف جانے والے پانی کے بہاؤ میں کمی آ جائے گی۔بھارت کی جانب سے شروع کئے گئے منصوبوں میں بگلیہار ڈیم جو کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں دریائےچناب پر تعمیر کیا گیا، جبکہ کشن گنگا ہائیڈرو پراجیکٹ دریائے نیلم پر تعمیر کیا گیااسی طرح رتلے ڈیم، پاکل دل پراجیکٹ، لوئر کلنائی پراجیکٹ جیسے متنازعہ منصوبوں پرپاکستان نےکئی اعتراضات اٹھائے۔جن میں پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ،زراعت اور معیشت پر منفی اثرات اورمعاہدے کی خلاف ورزی شامل ہیںدونوں ملکوں کے ماہرین نے سلال ڈیم کا تنازع انیس سو اٹھہتر میں حل کیا۔ پھر بگلیہار ڈیم کا معاملہ عالمی بینک کے مقرر کردہ غیر جانبدار ثالث کی مدد سے دوہزار سات میں حل کیا گیا۔ کشن گنگا پراجیکٹ کا معاملہ عالمی ثالثی عدالت تک پہنچا۔اوروہاں سےدوہزار تیرا میں فیصلہ آگیا۔ ان تنازعات کے حل میں سندھ کمیشن کے اجلاسوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔پلوامہ حملے کےبعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نےحملے کا الزام فوری طورپر پاکستان پر دھر دیا اور دھمکی دی کہ پاکستان کو پانی ایک قطرہ بھی نہیں دیا جائے گا ان کے اس بیان نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا۔پاکستان نے اس وقت بھی یہ موقف اختیار کیا کہ انڈس واٹر ٹریٹی ایک بین الاقوامی معاہدہ ہےاور بھارت اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا، اگر انڈس واٹر ٹریٹی ناکام ہوتی ہے تو خطے میں بڑے پیمانے پر قحط، زرعی تباہی اور نئی جنگوں کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

جنوبی ایشیا میں پہلے ہی پانی کا بحران سر اٹھا رہا ہے۔اب بھارت نے ایک بار پھر پہلگام سانحے کا بہانہ بناکر انڈس واٹر ٹریٹی یا سندھ طاس معاہدے کویکطرفہ طورپرختم کردیا ہے جبکہ پاکستان نے پانی کو اپنی لائف لائن قراردیتے ہوئے اسے جنگی اقدام قراردیا ہے۔یہاں ہم کہنا چاہتے ہیں کہ دریا نہ کسی سرحد کو جانتے ہیں، نہ کسی مذہب کووہ بس بہتے ہیں اور زندگی بانٹتے ہیں۔ لیکن دریاؤں کو روکنےیا رخ بدلنے کی کوئی بھی کوشش موت کا پیغام بن سکتی ہے۔آبی وسائل فطرت کا تحفہ ہیں، پانی کے بہاؤ پر کنٹرول کو سیاسی ہتھیار بنانا،،ایک نازک اور خطرناک راستہ ہے۔اگر معاہدہ ختم ہو گیا تو؟ نتیجہ ہوگا پانی کی جنگ،، قحط،، ہجرت اور شاید ایک نئی تباہ کن عالمی جنگ۔لیکن یاد رہےپانی دشمنی کی نہیں، دوستی کی بنیاد بن سکتا ہے۔اگر نیت صاف ہو تو پانی کے بہاؤ کے ساتھ محبت بھی بہ سکتی ہے۔اگر پاکستان اور بھارت چاہیں تو پانی کے ذریعے بھی دوستی اور ترقی کی نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔ انڈس واٹر ٹریٹی کو بچانا، دراصل کروڑوں انسانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related

امریکی افواج ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں کیلئےمکمل طور پر تیار ہیں،ڈین کین

واشنگٹن: امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ڈین کین...

ایران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملےکیے تو سخت جواب دیا جائیگا،پیٹ ہیگستھ

واشنگٹن: امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے آبنائے ہرمز...

آبنائےہرمز عالمی گزرگاہ ہے، اسے کوئی بھی ملک کنٹرول نہیں کرسکتا،مارکو روبیو

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ  مارکو روبیو نے کہا ہے...

آبنائے ہرمز میں ایران کی بادشاہی،ایک وارننگ کال پر امریکی جنگی جہاز رفو چکر

ایرانی بحریہ نے مبینہ طور پر ایک امریکی جنگی...