ایران کے سفارتی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ تہران امریکا کے "حد سے زیادہ مطالبات” ہرگز قبول نہیں کرے گا، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے دورۂ پاکستان کے دوران پاکستانی قیادت کے سامنے ایران کا مؤقف تفصیل سے پیش کیا۔
برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق عباس عراقچی نے اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقاتوں میں ایران کے مطالبات، امریکا کے مؤقف اور جاری کشیدگی پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق ٹیلیگرام پر جاری اپنے بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے جنگ بندی اور ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے مکمل خاتمے سے متعلق اپنے اصولی مؤقف کی وضاحت کی ہے۔
اسلام آباد میں موجود ایک ایرانی سفارتی ذریعے نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اصولی طور پر ایران کسی بھی غیر متوازن یا حد سے زیادہ امریکی مطالبات کو تسلیم نہیں کرے گا۔
اس سے قبل ایرانی حکام یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ وہ امریکی نمائندوں سے براہِ راست ملاقات نہیں کریں گے بلکہ اپنے پیغامات پاکستان کے ذریعے پہنچائیں گے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ سٹیو وٹکوف اور جیراڈ کشنر کا مجوزہ دورۂ پاکستان منسوخ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد سفارتی سرگرمیوں میں مزید پیچیدگی پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہیں، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت محدود کر دی ہے اور امریکا نے ایرانی تیل کی برآمدات پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔


