گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اسلام آباد میں بیٹھے بیوروکریٹس نہیں،وہاں کے عوام کو خود کرنا چاہیے،بلاول بھٹو زرداری

Date:

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اسلام آباد میں بیٹھے بیوروکریٹس نہیں بلکہ وہاں کے عوام کو خود کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حقیقی حقِ حکمرانی اسی وقت ممکن ہے جب عوام کو اپنے سیاسی، انتظامی اور آئینی فیصلوں میں مکمل اختیار حاصل ہو۔

شگر کے حلقہ جی بی اے 12 میں ایک بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ ماضی میں بھی عوام کے حقوق کی آواز بلند کرنے کے لیے سیاسی دباؤ کی پروا کیے بغیر گلگت بلتستان آئے تھے اور آج ایک بار پھر عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ان کے درمیان موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ہمیشہ پاکستان پیپلز پارٹی پر اعتماد کیا اور پارٹی نے بھی کبھی انہیں تنہا نہیں چھوڑا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست کا محور ہمیشہ عام آدمی، مزدور، کسان اور پسماندہ طبقات کے حقوق رہے ہیں۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قائد عوام نے صرف روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ نہیں دیا بلکہ اسے عملی شکل بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھٹو نے ملک کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد رکھی اور کمزور اور محروم طبقات کو قومی دھارے میں لانے کے لیے تاریخی اقدامات کیے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان میں شفاف انتخابات کے مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو اپنے ووٹ کا تحفظ خود کرنا ہوگا۔ انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ انتخابی نتائج کے دن فارم 45 اپنے پاس رکھیں جبکہ انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے باقی ذمہ داری وہ خود ادا کریں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس مرتبہ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات پاکستان کے عام انتخابات کے ساتھ کرائے جائیں تاکہ ان علاقوں کے عوام کو بھی ملک کے دیگر شہریوں کی طرح یکساں سیاسی حقوق حاصل ہوں۔ ان کے مطابق جب قومی اور علاقائی انتخابات ایک ساتھ ہوں گے تو حقِ حاکمیت کا تصور مزید مضبوط ہوگا اور عوامی نمائندگی حقیقی معنوں میں سامنے آئے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی طرز حکمرانی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض قوتیں ملک کے ہر حصے کو اسلام آباد سے چلانا چاہتی ہیں، چاہے وہ گلگت بلتستان ہو، آزاد کشمیر، گوادر یا کراچی۔ انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقوں کے مسائل کو اسلام آباد میں بیٹھ کر حل نہیں کیا جا سکتا اور مقامی لوگوں کو اپنے معاملات کے بارے میں فیصلہ سازی کا اختیار ملنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی حکومت مالی مشکلات کا شکار ہے تو سب سے پہلے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے متعلق غیر ضروری انتظامی ڈھانچے کا جائزہ لینا چاہیے، نہ کہ عوام کے اختیارات محدود کیے جائیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کا سب سے کامیاب سماجی تحفظ کا منصوبہ ہے جس سے ملک بھر میں لاکھوں خواتین اور مستحق خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض سیاسی قوتیں اس پروگرام کو کمزور یا ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اب اسے صوبوں کے سپرد کرنے کی تجاویز دی جا رہی ہیں، حالانکہ دنیا بھر میں اس نوعیت کے فلاحی پروگرام وفاقی سطح پر چلائے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام صرف ایک مالی امدادی منصوبہ نہیں بلکہ معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے امید کی کرن ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی ہی وہ جماعت ہے جو اس پروگرام کا تحفظ کر سکتی ہے اور کسی بھی صورت اسے ختم یا کمزور نہیں ہونے دے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ بطور وزیر خارجہ وہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ایک کامیاب ماڈل کے طور پر دیگر ممالک کے سامنے پیش کرتے رہے ہیں اور افغانستان سمیت مختلف ممالک کو مشورہ دیتے تھے کہ وہ بھی غریب اور محروم طبقات کی مدد کے لیے ایسے فلاحی منصوبے متعارف کرائیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پیپلز پارٹی عوامی فلاح کے منصوبوں کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بنائے گی اور گلگت بلتستان سمیت ملک بھر کے عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related